ایف پی ایس سی کا گلگت بلتستان میں مقابلے کے امتحان سے متعلق قواعد کو دو ہفتوں میں مکمل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
سیکریٹری ایف پی ایس سی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حکومتِ گلگت بلتستان سے متعلق تمام بھرتیوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ سیکریٹری سروسز اینڈ جنرل ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) حکومتِ گلگت بلتستان اور سیکریٹری فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے مابین ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گلگت بلتستان سے متعلق بھرتیوں کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف پی ایس سی گلگت بلتستان کمبائنڈ کمپیٹیٹو امتحان سے متعلق بھرتی کے قواعد کو دو ہفتوں کے اندر حتمی شکل دے گا، جبکہ اس امتحان کو سال 2026ء کے امتحانی پروگرام میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔اسی طرح محکمہ صحت سے متعلق بھرتی کے قواعد کو کم سے کم ممکنہ مدت میں حتمی بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ متعلقہ آسامیوں پر بروقت تقرریوں کا عمل مکمل ہو سکے۔ کیڈرک ہسپتال سے متعلق بھرتی کے قواعد کو بھی دو ہفتوں کے اندر حتمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر سیکریٹری ایف پی ایس سی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حکومتِ گلگت بلتستان سے متعلق تمام بھرتیوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔ اجلاس میں بھرتی کے عمل میں تاخیر سے بچنے اور بروقت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے درخواستوں اور بھرتی کے قواعد کی ترسیل کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس سلسلے میں وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان (KA&GB) کے ساتھ ایک علیحدہ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ اس پورے عمل کو جدید اور مؤثر بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق ان فیصلوں سے گلگت بلتستان میں شفاف اور بروقت بھرتیوں کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے متعلق بھرتی بھرتی کے قواعد ایف پی ایس سی گلگت بلتستان قواعد کو جائے گا کیا گیا
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔