ایف بی آر کے اقدامات پر تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاون ہڑتال اور ڈی چوک پر دھرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ایف بی آر کے اقدامات پر تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاون ہڑتال اور ڈی چوک پر دھرنے کی دھمکی WhatsAppFacebookTwitter 0 30 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد نے حکومت کو پوائنٹ آف سیل ڈیوائس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال اور ڈی چوک پر احتجاج کی دھمکی دیدی۔
تفصیلات کے مطابق آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کی جانب سے پوائنٹ آف سیل ڈیوائس کی تنصیب کے خلاف آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے کرتے ہوئے کہا کہ اگر پوائنٹ آف سیل ڈیوائس کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا۔ریلی میں اسلام آباد/راولپنڈی کے تاجر نمائندوں اور تاجروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، شرکا کو مقامی ہوٹل سے پہلے پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا۔تاجروں نے ریلی روکنے پر اسی جگہ بھر پور احتجاج کیا، جلسہ سے وفاقی دارالحکومت کی تاجر تنظیموں کے رہنماں نے خطاب کیا۔
اس موقع پر انجمن تاجران پاکستان کے صدر اجمل بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرپشن کے خاتمہ کیلئے سزائے موت کا بل پاس کیا جائے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سالانہ ترپن ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے جس میں سب سے زیادہ حصہ ایف بی آر کا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب کرپٹ مافیا نے تاجروں کی طرف رخ کر لیا ہے اور پی او ایس چھوٹی چھوٹی دکانوں پر لگانے کے لئے رشوت کا بازار گرم کر دیا گیا ہے، کروڑوں روپے کے قانونی طور پر امپورٹڈ ٹائر اٹھا کر آدھے واپس کئے ہیں باقی کریٹ مافیا نے آپس میں تقسیم کرلیے ہیں۔ وقت آئے گا ہم ان ٹائروں کا حساب لیں گے۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ ایف بی آر کے ہزاروں ملازمین کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کی انکوائری کرائی جائیں، دفاتر میں کام کرنے والے چپڑاسیوں کے پاس بھی ایک ایک کروڑ کی گاڑی ہے، کسٹم حکام نے 26 ہزار نان کسٹم پیڈ گاڑیاں پکڑی ہیں جو بیورو کریسی اور ان کے رشتہ داروں کے استعمال میں ہیں۔تاجر تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ ایف بی آر نے اگر اسلام آباد میں کسی بھی جگہ یا چھوٹے دکاندار کو پی او ایسں لگایا یا سیل کیا تو بھر پور مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلا احتجاج 16 جنوری کو ہوگا۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ اگر یہ کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو اسلام آباد کے تاجر شاہراہ کشمیر بند کرکے زیرو پوائنٹ پر دھرنا دیں گے پھر بھی ایف بی آر کے ظلم و ستم جاری رہے تو ملک بھر میں شٹر ڈان کی کال دی جائے گی اور ڈی چوک میں مظاہرہ ہوگا۔انہوں نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ تاجروں کو ایف بی آر کی کرپش اورظلم سے نجات دلائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان انوسٹر فورم کے صدر چوہدری شفقت محمود اور جنرل سیکریٹری عبدالخالق لک کی قونصل جنرل سید مصطفی ربانی سے ملاقات پاکستان انوسٹر فورم کے صدر چوہدری شفقت محمود اور جنرل سیکریٹری عبدالخالق لک کی قونصل جنرل سید مصطفی ربانی سے ملاقات متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، سپیکر کے پی کا سپیکر پنجاب اسمبلی کوخط، احتجاج ریکارڈ کرایا وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات ، یمن تنازع پر سعودی عرب اور امارات میں کشیدگی ختم کرانے کیلئے کردار ادا... دھوکا دہی پر مبنی تشہیر ،کمپٹیشن کمیشن نے کنگڈم ویلی پر 15کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کی جانب سے دھمکی موصول
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایف بی آر کے اور ڈی چوک
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت