چیف جسٹس پاکستان کا تھرپارکر کا دورہ، انصاف کی فراہمی، عدالتی نظام کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
چیف جسٹس پاکستان کا تھرپارکر کا دورہ، انصاف کی فراہمی، عدالتی نظام کا جائزہ لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 30 December, 2025 سب نیوز
تھرپارکر(سب نیوز)چیف جسٹس پاکستان کا ضلع تھرپارکر کا دورہ، انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام کا جائزہ لیا۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے فیلڈ وزٹ کیا، چیف جسٹس پاکستان کے ہمراہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ بھی تھے۔
یہ دورہ آئین میں دی گئی مساوات، شمولیت اور پرامن بقائے باہمی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے ننگرپارکر کے سول کورٹ کمپلیکس میں عدالتوں کے کام کا معائنہ کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی وقار کے لیے عوامی سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا، چیف جسٹس پاکستان نے خواتین سہولت مرکز، صاف پانی، سولرائزیشن اور ای لائبریری کی سہولتوں کو سراہا۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں سے انٹرایکٹو ملاقات ہوئی، ملاقات میں موثر انصاف کے لیے بینچ اور بار کے تعمیری تعاون پر زور دیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کاسبو مندر، چوریو جبل درگا ماتا مندر کا بھی دورہ کیا، دورے کے دوران مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے مٹھی ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس میں عدالتی امور کا جائزہ لیا، چیف جسٹس پاکستان نے کیس مینجمنٹ، انفراسٹرکچر اور خواتین دوست سہولتوں کا معائنہ کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے رسائی، صفائی اور فعالیت سے متعلق خلا کی نشاندہی دستاویزی شکل میں کرنے کی ہدایت کی، یہ دورہ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے اصلاحاتی اور فیلڈ بیسڈ عمل کا حصہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایف بی آر کے اقدامات پر تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاون ہڑتال اور ڈی چوک پر دھرنے کی دھمکی ایف بی آر کے اقدامات پر تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاون ہڑتال اور ڈی چوک پر دھرنے کی دھمکی پاکستان انوسٹر فورم کے صدر چوہدری شفقت محمود اور جنرل سیکریٹری عبدالخالق لک کی قونصل جنرل سید مصطفی ربانی سے ملاقات متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، سپیکر کے پی کا سپیکر پنجاب اسمبلی کوخط، احتجاج ریکارڈ کرایا وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات ، یمن تنازع پر سعودی عرب اور امارات میں کشیدگی ختم کرانے کیلئے کردار ادا... دھوکا دہی پر مبنی تشہیر ،کمپٹیشن کمیشن نے کنگڈم ویلی پر 15کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس پاکستان نے کا جائزہ لیا کی فراہمی کا دورہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔