علامہ راجہ ناصر عباس کی زیر تعمیر یونیورسٹی کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
(سٹی 42) سینیٹ میں تحریک انصاف کےنامزد کردہ قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی زیر تعمیر یونیورسٹی کو کالعدم دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی کے خوارج کی جانب سے دھمکی موصول۔
ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی زیرِ تعمیر یونیورسٹی کو کالعدم دہشت گرد خوارج کی دھمکی موصول ہونے پر مجلس وحدت المسلمین نے اپنے ردعمل میں یورنیورسٹی کو ٹارگٹ بنا کر تصویر سوشل میڈیا پر جاری کئے جانے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ہائی الرٹ سکیورٹی پولیس ناکوں اور سخت حفاظتی دعوؤں کے باوجود ایک ہائی پروفائل دہشتگرد وفاقی دارالحکومت میں دندناتا پھر رہا ہے۔
سینیئرز کی عزت ۔۔۔ کامیابی کی ضمانت۔۔۔ نرگس اور ریما کا کیا موازنہ
ترجمان مجلس وحدت المسلمین نے کہا کہ حساس مقامات تک دہشت گردوں کا بلا روک ٹوک پہنچنا تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کرنا ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد پولیس اور متعلقہ سکیورٹی ادارے اس سنگین واقعے کا فوری اور سخت نوٹس لیں اور ملوث دہشت گرد عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ایم ڈبلیو ایم نے مطالبہ کیا کہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت تمام عوامی نمائندوں اور شہریوں کو مؤثر اور یقینی سکیورٹی فراہم کی جائے
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، بہنیں اڈیالہ نہ پہنچ سکیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس زیر تعمیر یونیورسٹی ٹی ٹی پی خوارج دھمکی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس خوارج دھمکی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس علامہ راجہ ناصر عباس
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔