ریاض نے ابوظبی سے عبوری کونسل کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اپنے ایک اجلاس میں سعودی وزراء کی کونسل کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ابوظبی دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری اقدامات کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی وزراء کی کونسل نے زور دیا کہ ریاض کسی بھی دراندازی یا قومی سلامتی کو لاحق خطرے کے ساتھ سختی سے پیش آئے گا۔ مذکورہ کونسل نے "جنوبی یمن" میں "متحدہ عرب امارات" کے ساتھ اختلافات اور تصادم کے تناظر میں، "رشاد العلیمی" کی قیادت میں "صدارتی کونسل" کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اماراتی نواز فورسز کی جانب سے جنوبی یمن میں اشتعال انگیزی کو مورد تنقید ٹہرایا۔ ریاض نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یمن میں قیام امن کے لئے سعودی کوششوں کا جواب، اماراتی عناصر نے کشیدگی سے دیا، جو کہ دونوں فریقین کے درمیان طے شدہ معاہدوں کے منافی ہے۔ سعودی وزراء کی کونسل نے GCC ممالک کے درمیان حُسنِ ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند رہنے کی امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے ابوظبی سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی افواج واپس بلا لے۔ مذکورہ سعودی پلیٹ فارم نے اس بات پر زور دیا کہ امارات کو "جنوبی عبوری کونسل" کے عناصر کی مالی اور عسکری حمایت ختم کرنی چاہئے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ابوظبی دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کرے گا۔
قبل ازیں اماراتی وزارت دفاع نے ایک جاری بیان کے ذریعے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے و تعاون سے عمل میں لائی جائے گی۔ اس واپسی کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا۔ اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی پہلے ہی 2019ء میں ختم ہوچکی ہے۔ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لئے یو اے ای کے دیرینہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یو اے ای 2015ء سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ جب کہ 2019ء میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم