اسلام ٹائمز: جنوبی عبوری کونسل نے باضابطہ طور پر آزاد جنوبی یمن کے اعلان کا بھی مطالبہ کیا اور سعودی اتحاد کے اقدامات کو مسترد کر دیا، جسے مبصرین ریاض کے مطالبات کو عملی طور پر رد کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب مقامی ذرائع نے بتایا کہ اتوار کی شب حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کے عناصر اور سعودی حمایت یافتہ قبائلی اتحاد کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے ساتھ ہی سعودی جنگی طیارے صوبے کے مختلف علاقوں میں نچلی پروازیں کرتے رہے۔ خصوصی رپورٹ:

امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل نے حالیہ ہفتوں کے دوران صوبہ حضرموت اور المہرہ کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا لیا ہے۔ یہ دونوں صوبے یمن کے مشرق میں واقع، تیل سے مالا مال اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم ہیں۔ اس پیش رفت پر سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی نے سخت مخالفت کی ہے۔ امارات سے وابستہ جنوبی عبوری کونسل کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں رشاد العلیمی کے اقدامات کو معاہدوں اور ان کے اختیارات سے باہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماعی صدارتی کونسل کے خلاف ایک طرح کی بغاوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اختیارات صدارتی کونسل کو منتقل کیے گئے ہیں، کسی ایک فرد کو نہیں، لہٰذا العلیمی کو مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ترجمان نے جنوبی یمن میں اماراتی فوجی مراکز پر سعودی فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبوری کونسل اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے۔ ان کے مطابق جنوبی یمن میں امارات کا کردار صرف تربیت اور بین الاقوامی فورسز کے دائرے میں موجودگی تک محدود ہے۔ اس سے قبل رشاد العلیمی نے امارات نواز جنوبی عبوری کونسل کے اقدامات کو سرکاری اداروں کے خلاف بغاوت قرار دیتے ہوئے امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔

الزامات، سخت بیانات اور زمینی اقدامات (علاقوں پر قبضہ، محدود فضائی حملے، اسلحے کی ترسیل) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یمن میں دو سابق اتحادیوں، یعنی سعودی عرب اور امارات، کے درمیان نیابتی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کشیدگی صرف جنوبی یمن میں اثر و رسوخ، علیحدگی پسندی، بندرگاہوں اور قدرتی وسائل کے کنٹرول جیسے پرانے تنازعات تک محدود نہیں بلکہ یمن کی سرزمین پر دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست نیابتی جنگ کے خطرے کو بھی بڑھا رہی ہے۔ ادھر مشرقی یمن میں بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا ہے۔

سعودی عرب نے جنوبی عبوری کونسل کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے حضرموت اور المہرہ سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ہفتے کے روز سخت لہجے میں کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ثالثی کوششوں کا جواب دے، اپنے جنگجوؤں کو ان صوبوں سے نکالے اور انہیں پُرامن طریقے سے عدن میں قائم ریاض نواز حکومت کے حوالے کرے۔ اس مطالبے کے جواب میں جنوبی عبوری کونسل نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اتوار کے روز سیئون شہر (جو عملی طور پر حضرموت کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے) میں بڑے پیمانے پر مظاہرہ کریں تاکہ حضرموت اور المہرہ پر اپنے کنٹرول کے حق میں حمایت کا اظہار کیا جا سکے۔

جنوبی عبوری کونسل نے باضابطہ طور پر آزاد جنوبی یمن کے اعلان کا بھی مطالبہ کیا اور سعودی اتحاد کے اقدامات کو مسترد کر دیا، جسے مبصرین ریاض کے مطالبات کو عملی طور پر رد کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب مقامی ذرائع نے بتایا کہ اتوار کی شب حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کے عناصر اور سعودی حمایت یافتہ قبائلی اتحاد کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے ساتھ ہی سعودی جنگی طیارے صوبے کے مختلف علاقوں میں نچلی پروازیں کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں وادی خرد کے علاقے میں اس وقت ہوئیں جب جنوبی عبوری کونسل کے جنگجو وہاں پیش قدمی کی کوشش کر رہے تھے، جسے قبائلی فورسز نے روک دیا۔

اسی دوران سعودی طیارے متعدد علاقوں میں کم بلندی پر پرواز کرتے رہے۔ گیل بن یمین کے علاقے کے رہائشیوں نے بتایا کہ جنوبی عبوری کونسل کے عناصر نے علاقے کا سخت محاصرہ کر لیا، جھڑپیں رہائشی علاقوں تک پھیل گئیں اور گھروں پر فائرنگ کی گئی، جس سے خواتین اور بچے شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے مشرقی حضرموت میں امارات کے حمایت یافتہ فوجی قافلے پر فضائی حملہ کیا ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے آج علی الصبح بندرگاہ مکلا میں اماراتی اسلحے اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنوبی عبوری کونسل نے جنوبی عبوری کونسل کے کے اقدامات کو حمایت یافتہ میں امارات کے درمیان اور سعودی اتحاد کے کے مطابق

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے