لفظی جنگ سے فضائی حملے تک، سعودی عرب امارات کشیدگی میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: جنوبی عبوری کونسل نے باضابطہ طور پر آزاد جنوبی یمن کے اعلان کا بھی مطالبہ کیا اور سعودی اتحاد کے اقدامات کو مسترد کر دیا، جسے مبصرین ریاض کے مطالبات کو عملی طور پر رد کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب مقامی ذرائع نے بتایا کہ اتوار کی شب حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کے عناصر اور سعودی حمایت یافتہ قبائلی اتحاد کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے ساتھ ہی سعودی جنگی طیارے صوبے کے مختلف علاقوں میں نچلی پروازیں کرتے رہے۔ خصوصی رپورٹ:
امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل نے حالیہ ہفتوں کے دوران صوبہ حضرموت اور المہرہ کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا لیا ہے۔ یہ دونوں صوبے یمن کے مشرق میں واقع، تیل سے مالا مال اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم ہیں۔ اس پیش رفت پر سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی نے سخت مخالفت کی ہے۔ امارات سے وابستہ جنوبی عبوری کونسل کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں رشاد العلیمی کے اقدامات کو معاہدوں اور ان کے اختیارات سے باہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماعی صدارتی کونسل کے خلاف ایک طرح کی بغاوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اختیارات صدارتی کونسل کو منتقل کیے گئے ہیں، کسی ایک فرد کو نہیں، لہٰذا العلیمی کو مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ترجمان نے جنوبی یمن میں اماراتی فوجی مراکز پر سعودی فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبوری کونسل اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے۔ ان کے مطابق جنوبی یمن میں امارات کا کردار صرف تربیت اور بین الاقوامی فورسز کے دائرے میں موجودگی تک محدود ہے۔ اس سے قبل رشاد العلیمی نے امارات نواز جنوبی عبوری کونسل کے اقدامات کو سرکاری اداروں کے خلاف بغاوت قرار دیتے ہوئے امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔
الزامات، سخت بیانات اور زمینی اقدامات (علاقوں پر قبضہ، محدود فضائی حملے، اسلحے کی ترسیل) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یمن میں دو سابق اتحادیوں، یعنی سعودی عرب اور امارات، کے درمیان نیابتی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کشیدگی صرف جنوبی یمن میں اثر و رسوخ، علیحدگی پسندی، بندرگاہوں اور قدرتی وسائل کے کنٹرول جیسے پرانے تنازعات تک محدود نہیں بلکہ یمن کی سرزمین پر دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست نیابتی جنگ کے خطرے کو بھی بڑھا رہی ہے۔ ادھر مشرقی یمن میں بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا ہے۔
سعودی عرب نے جنوبی عبوری کونسل کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے حضرموت اور المہرہ سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ہفتے کے روز سخت لہجے میں کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ثالثی کوششوں کا جواب دے، اپنے جنگجوؤں کو ان صوبوں سے نکالے اور انہیں پُرامن طریقے سے عدن میں قائم ریاض نواز حکومت کے حوالے کرے۔ اس مطالبے کے جواب میں جنوبی عبوری کونسل نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اتوار کے روز سیئون شہر (جو عملی طور پر حضرموت کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے) میں بڑے پیمانے پر مظاہرہ کریں تاکہ حضرموت اور المہرہ پر اپنے کنٹرول کے حق میں حمایت کا اظہار کیا جا سکے۔
جنوبی عبوری کونسل نے باضابطہ طور پر آزاد جنوبی یمن کے اعلان کا بھی مطالبہ کیا اور سعودی اتحاد کے اقدامات کو مسترد کر دیا، جسے مبصرین ریاض کے مطالبات کو عملی طور پر رد کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب مقامی ذرائع نے بتایا کہ اتوار کی شب حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کے عناصر اور سعودی حمایت یافتہ قبائلی اتحاد کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے ساتھ ہی سعودی جنگی طیارے صوبے کے مختلف علاقوں میں نچلی پروازیں کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں وادی خرد کے علاقے میں اس وقت ہوئیں جب جنوبی عبوری کونسل کے جنگجو وہاں پیش قدمی کی کوشش کر رہے تھے، جسے قبائلی فورسز نے روک دیا۔
اسی دوران سعودی طیارے متعدد علاقوں میں کم بلندی پر پرواز کرتے رہے۔ گیل بن یمین کے علاقے کے رہائشیوں نے بتایا کہ جنوبی عبوری کونسل کے عناصر نے علاقے کا سخت محاصرہ کر لیا، جھڑپیں رہائشی علاقوں تک پھیل گئیں اور گھروں پر فائرنگ کی گئی، جس سے خواتین اور بچے شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے مشرقی حضرموت میں امارات کے حمایت یافتہ فوجی قافلے پر فضائی حملہ کیا ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے آج علی الصبح بندرگاہ مکلا میں اماراتی اسلحے اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنوبی عبوری کونسل نے جنوبی عبوری کونسل کے کے اقدامات کو حمایت یافتہ میں امارات کے درمیان اور سعودی اتحاد کے کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ