یمن کی صورتحال پر امریکی و سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
حضرموت، یمن کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں عبوری كونسل كی یلغار كے بعد، سعودی حمایت یافتہ فورسز پیچھے ہٹ کر صوبہ مأرب کی جانب چلی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیر خارجہ "مارکو روبیو" نے اپنے سعودی ہم منصب "فیصل بن فرحان آل سعود" سے ٹیلیفون پر بات کی۔ جس میں دونوں وزرائے خارجہ نے یمن میں جاری کشیدگی اور خطے کی سلامتی پر گفتگو کی۔ واضح رہے كہ گزشتہ دنوں، اماراتی نواز "عبوری کونسل" نے یمن کے جنوبی صوبوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ اس کونسل نے بتایا كہ وہ اپنی کارروائیاں انتہاء پسندوں کو نکالنے اور اسمگلنگ کو روکنے كے لئے کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، عبوری کونسل کی فورسز نے صوبہ حضرموت میں پیش قدمی کرتے ہوئے شہر "سیئون" اور سعودی سرحد كے قریب تیل کے كچھ كنوؑوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی طرح، عمان كے بارڈر كے قریب، صوبہ المہرہ میں بھی کچھ مقامی رہنماؤں نے اس کونسل کے اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی۔
دلچسپ بات ہے كہ حضرموت، یمن کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں عبوری كونسل كی یلغار كے بعد، سعودی حمایت یافتہ فورسز پیچھے ہٹ کر صوبہ مأرب کی جانب چلی گئیں۔ اس صورت حال كو دیكھ كر لگتا ہے کہ جنوبی یمن کی عبوری کونسل اور سعودی نواز صدارتی كونسل کے درمیان نیا تصادم جڑ پكڑ سكتا ہے۔ ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں کہ شاید اماراتی حمایت یافتہ عبوری کونسل، 1990ء سے پہلے والے جنوبی یمن كو متحدہ یمن سے جدا كرنا چاہتی ہے۔ اب تک کی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب اپنے علاقے ہاتھ سے نکلنے پر شدید سیخ پا ہے اور متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ وہاں سے اپنی فوجیں باہر نکالے اور عبوری کونسل کی حمایت سے ہاتھ اٹھائے۔ تازہ ترین صورت حال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یو اے ای بھی سعودی عرب کے پریشر میں آ گیا ہے اور یمن سے اپنی باقی ماندہ فورسز نکالنے کا عندیہ دے چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عبوری کونسل
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔