کراچی میں موسم سرما کی پہلی بارش کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں موسم سرما کی پہلی بارش کا آغاز ہوگیا،صدر، جیل روڈ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں پھوار کے باعث موسم سرد ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں آج رات اور کل ہلکی بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے بوندا باندی اور ہلکی بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے جس کے باعث درجہ حرارت میں مزید کمی متوقع ہے۔
بلوچستان میں آج سے بارش اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہوگا، قومی شاہراہوں پر ممکنہ برفباری کے پیش نظر این ایچ اے بلوچستان نے اپنی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں میں برف باری اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، برفباری سے سیاحتی مقامات پر سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
وادی نیلم میں تیز اور ہلکی برف باری کا سلسلہ وقفے وقفےسے جاری ہے، جاگراں،اپر نیلم، شاردہ، اڑنگ کیل، گریس، تاوبٹ سمیت وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں برف باری سے سردی کی شدت بڑھ گئی ہے جبکہ مرکزی شاہراہ نیلم سمیت رابطہ سڑکوں پر پھسلن میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
گلگت بلتستان میں چلاس، بابو سر ٹاپ، نانگا پربت اور بٹوگاہ ٹاپ پر بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔
جنوبی و شمالی وزیرستان کے بالائی علاقوں میں بھی برفباری اور بارش سے موسم سرد ہوگیا۔
چمن، حب، وندر، پشین، زیارت، مسلم باغ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
کوئٹہ، گوادر، جیونی میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علاقوں میں کا سلسلہ بارش کا جاری ہے باری کا
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔