پشاور،6لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کا معاشی استحصال بند کیا جائے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-06-1
پشاور(جسارت نیوز ) صوبہ بھر کے 6 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کا معاشی استحصال بند کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس اگیگ اور آل گورنمنٹ ایمپلائز کوارڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب کے سامنے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اگیگا پاکستان حیدر علی خان استانیزے، بابائے اگیگا سمیع اللہ خان خلیل، عزیز اللہ خان، صدر کوآرڈینیشن کونسل سراج الدین برکی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں معاشی اصلاحات نافذ کرنے کی بجائے سرکاری ملازمین کی پنشن پر مسلسل کٹ لگا کر غریب سرکاری ملازمین کو دیوار سے لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پنشن کا پرانا طریقہ کار بحال کر دیا ہے جبکہ صوبائی حکومت ابھی تک ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ بجٹ 2025ء میں وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تضاد ختم کرنے کے لئے 30% ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا تھا لیکن صوبائی حکومت نے اس میں بھی سرکاری ملازمین کو مایوس کیا ہے جس پر اگیگا اور کوارڈینیشن کونسل کی صوبہ گیر تنظیموں نے صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک بھی چلائی، صوبائی وزراء کی یقین دہانیوں پر احتجاج اور تحریک ختم کر دی گئی لیکن حکومت اپنا وعدہ بھول گئی اور ابھی تک 30% ڈسپیریٹی کا مسئلہ زیر التواء ہے۔ اس موقع پر سرکاری ملازمین کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کلاس فور ملازمین کی پوسٹیں ختم کرنے کے اقدام کو مسترد کیا اور کہا کہ بڑی بڑی پوسٹیں ختم کرنے کی بجائے غریب سرکاری ملازمین کی پیٹ میں چھرا گھونپا گیا ہے جس پر غریب سرکاری ملازمین دونوں ہاتھوں سے حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔ مقرین نے کہا کہ کیبنٹ سے منظور شدہ اساتذہ کی اپ گریڈیشن اور ریگولرائزیشن پر تاحال کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی جس سے حکومت کے جھوٹ کا چہرا بے نقاب ہوگیا ہے۔ حکومت فوری طور پر اپنے وعدے کو پورا کرے اور کبینٹ سے منظور شدہ اپ گریڈیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کرے اس کے ساتھ ہی 2022ء میں بھرتی شدہ اساتذہ کی ریگولرائزیشن کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جائے تاکہ نوجوان اساتذہ مزید دلجمعی سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔CP فنڈ اور جی پی فنڈ نے نوجوان سرکاری ملازمین میں مایوسی اور بد دلی پیدا کی ہوئی ہے لہٰذا CP فنڈ کو مستقل طور پر ختم کر کے GP فنڈ کی پالیسی دوبارہ نافذ کی جائے۔ مقررین نے کہا کہ بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں کی بندش کی وجہ سے غریب ملازمین کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں دیگر ملازمین کی طرح انہیں بھی اکاؤنٹ 4 کے ذریعے تنخواہیں دی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین ملازمین کی نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔