خبر رساں ادارے تسنیم کے علاقائی دفتر کے مطابق امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسند گروہوں کے درمیان مختلف علاقوں، بالخصوص ڈیورنڈ لائن پر، فائرنگ کے تبادلے اور سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے، جسے تجزیہ کار آنے والے برسوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی تھنک ٹینک، کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR)، نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ سال 2026 میں مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلح تصادم کا امکان موجود ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے امکانات کو بھی درمیانی سطح کا قرار دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے علاقائی دفتر کے مطابق امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز نے دسمبر کی اپنی رپورٹ بعنوان سال 2026 میں نمایاں تنازعات میں امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین کے خیالات کا جائزہ لیتے ہوئے جنوبی ایشیا میں مسلح تنازعات کے دوبارہ بھڑکنے کے امکانات کا تجزیہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ سی ایف آر نے اس امکان کو درمیانی سطح کا قرار دیا ہے اور امریکی مفادات پر اس کے اثرات کو بھی معتدل بتایا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز کی رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تصادم کے امکان کو بھی زیر غور لایا گیا ہے اور اسے بھی درمیانی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ سرحد پار عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، اگرچہ اس کا امریکی مفادات پر اثر نسبتاً کم ہوگا۔

حالیہ مہینوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسند گروہوں کے درمیان مختلف علاقوں، بالخصوص ڈیورنڈ لائن پر، فائرنگ کے تبادلے اور سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے، جسے تجزیہ کار آنے والے برسوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہیں۔ اس امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کشیدگیوں میں اضافہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے اور جنوبی ایشیا کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تاریخی کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جو کئی دہائیوں سے جنگوں اور سیاسی اختلافات کا مرکز رہا ہے۔

دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور معمولی نوعیت کا کوئی بھی تصادم سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی سرحد پار عسکریت پسندوں کے حملوں اور سرحدی تنازعات سے متاثر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی جھڑپ نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ اس کے سرحد پار سیاسی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کونسل آن فارن ریلیشنز امریکی تھنک ٹینک اور پاکستان کے کے درمیان رپورٹ میں میں اضافہ سکتا ہے گیا ہے

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی