ایران کا امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ دوبارہ حملے کی دھمکی کے بعد کسی بھی جارحیت کے خلاف سخت ردعمل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ناجائز جارحیت کا جواب شدید اور فیصلہ کن ہوگا، ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ نے بھی حقِ دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی سے اجازت لینے کا محتاج نہیں اور کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ایرانی عوام کا ردعمل غیرمتوقع ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت موقف اختیار کیا تھا۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری تنصیبات تعمیر کرنے کی کوشش کی تو امریکا فوری حملوں کی حمایت کرے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرتا ہے تو انہیں روکنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کسی بھی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔