نئے سال پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں11 روپے تک کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-01-2
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نئے سال پر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 11 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ظاہر کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ 15 روز کیلیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ابتدائی ورکنگ مکمل کرلی گئی ہے، ذرائع وزارت خزانہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں یکم جنوری سے 10 روپے60 پیسے فی لیٹرکمی تجویز ہے، اسی طرح ہائی ا سپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی کم ہوسکتی ہے جس کے لیے 8 روپے 59 پیسے فی لیٹرکمی کی تجویز دی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 62 پیسے فی لیٹر کمی کی سفارش کردی گئی، اس ضمن میں اوگرا کی جانب سے آج ورکنگ پیپر حکومت کوبھجوایا جائے گا، جس کے بعد حکومت ریونیو ضروریات کو مدنظررکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کرے گی، جس کیلیے وزارت خزانہ کو وزیراعظم کی منظوری درکار ہوگی جب کہ حتمی نوٹی فکیشن وزارت پٹرولیم سے جاری ہوگا۔بتایا جارہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے باعث پٹرول کی فی بیرل قیمت 69 ڈالر 73سینٹ ہوگئی، پٹرول کی فی بیرل قیمت 75 ڈالر 5 سینٹ سے کم ہوکر 69 ڈالر 73 سینٹ ہوئی ہے، یوں پٹرول کی فی بیرل قیمت میں 5 ڈالر32 سینٹ ریکارڈ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعات کی قیمتوں پٹرول کی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔