Jasarat News:
2026-07-24@07:23:17 GMT

عرب اتحادی افواج کا یمن کی بندرگاہ پر فضائی حملہ

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ریاض /صنعا /ابو ظبی /رحیم یار خان /اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے یمن میں قائم مکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں ایسے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتاری جا رہی تھیں۔سعودی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں موجود بندرگاہ ملا کو بیرونی فوجی امداد حاصل ہے جس کے خلاف محدود فضائی کارروائی کی گئی ہے۔ اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے 2 بحری جہاز ہماری اجازت کے بغیر ہفتہ اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے، انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم غیر فعال کر دیے اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کی فوجی اعانت کے لیے بڑی تعداد میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں‘ مکلا بندرگاہ پر حملے سے کوئی ہلاکتیں یا اصل اہداف کے علاوہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔اتحاد کے مطابق ایک وڈیو جاری کی گئی جس میں دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے کے بعد ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔ یمن کی صدارتی قیادت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی تعاون کا باب بند کرتے ہوئے مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے مطابق ملک میں موجود یو اے ای کی تمام فوجی فورسز کو 24 گھنٹے کے اندر یمن چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کیے گئے حالیہ اقدامات نہایت خطرناک ہیں اور یہ پورے خطے کے استحکام کے لیے سنگین خدشات کو جنم دے سکتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تحمل اور مکالمے کی ضرورت ہے۔یمن اور یو اے ای کے درمیان دفاعی معاہدے کی منسوخی اور فوری انخلا کے اعلان نے خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جب کہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے اثرات علاقائی سیاست پر نمایاں طور پر مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹے میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بند کرے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، یواے ای کا یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کرکارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے، یہ اقدام ہماری قومی سلامتی اورجمہوریہ یمن کے امن سمیت پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات یمنی حکومت کی حمایت کے لیے عرب اتحاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے، قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس سے چھیڑچھاڑ کو ریڈلائن سمجھا جائے گا، ہم کسی ایسے اقدام سے گریزنہیں کریں گے جو اس خطرے کے سدباب کے لیے ضروری ہو۔سعودی عرب نے صدریمنی صدارتی قیادت کونسل اور ان کی حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہم یمن کے امن، استحکام اور خودمختاری کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ سعودی عرب کے بیان پر یو اے ای کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے بیان سے مایوسی ہوئی ہے، یمن سے متعلق تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔یو اے ای کا کہنا ہے کہ مکلا بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والے جہازوں پر اسلحہ نہیں تھا، بندرگاہ پر جہاز یمنی گروپ کے لیے نہیں اماراتی فورسز کے لیے تھے، یمن میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے ذمہ داری سے نمٹنا چاہیے۔یو اے ای کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی حالیہ صورتحال کو مزید کشیدہ نہیں ہونے دینا چاہیے، سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حملہ حیران کُن ہے۔ سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی۔وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے‘ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا‘ یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی پہلے ہی2019ء میں ختم ہوچکی تھی‘ صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں۔یمن نے سعودی اتحادی فورسز کے حملے کے بعد ملک میں 90 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق یمنی صدارتی کونسل نے ملک میں90 روز کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، یمنی صدارتی کونسل کے مطابق یمن کی فضائی، بحری اور بری حدود 72 گھنٹے کے لیے بند رہیں گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی جہاں دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں اشتراک عمل کو مزید فروغ دینے کے امکانات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ، برادرانہ تعلقات کو ایک مضبوط، اسٹریٹجک اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے میں موجودہ علاقائی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق اسحق ڈار نے بات چیت کے دوران اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس سے قبل منگل کو سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کی بندرگاہ مکالا پر جنوبی علیحدگی پسندوں کو بیرونی فوجی معاونت فراہم کیے جانے کے دعوے کے تحت حملہ کیا۔گزشتہ ہفتے پاکستان نے یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات کی کہا گیا ہے کہ میں کہا میں کہا گیا بندرگاہ پر کی جانب سے کا اعلان کے مطابق یو اے ای کو مزید پیش رفت نے والے کے لیے کیا ہے کے بعد یمن کی

پڑھیں:

نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.

People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.

Living conditions remain…

— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران