سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام
یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت داروں کیساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائیگی، امارات وزارتِ دفاع
سعودی عرب نے یمن کے ساحلی شہر المکلہ کی بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا ہے جہاں اماراتی جہاز کھڑے تھے ۔سعودی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی منگل کو یمن کے ایک علیحدگی پسند گروہ کے لیے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی۔سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی افواج واپس بلائے۔ خبر ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے یو اے ای کے حالیہ اقدامات کو نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا یمن کے حوالے سے بڑا بیان سامنے آگیا۔سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی۔وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا۔اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی۔اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف سعودی عرب بلکہ یمن اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسلحہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے دو بحری جہازوں کے ذریعے المکلہ پہنچایا گیا تھا اور اسے جنوبی عبوری کونسل کی حمایت میں اتارا جا رہا تھا۔جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی2015 )میں سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف بننے والے اتحاد کا حصہ تھی، تاہم بعد میں اس نے جنوبی یمن کی خودمختاری کی مہم شروع کر دی۔ حالیہ دنوں میں جنوبی یمن کے پرچم بھی لہرائے جا رہے ہیں اور مظاہروں میں علیحدگی کے حق میں نعرے لگائے جا رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ان جہازوں نے المکلہ پہنچنے کے بعد اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے اور بھاری مقدار میں ہتھیار اور فوجی گاڑیاں اتاریں، جو امن اور استحکام کے لیے فوری خطرہ سمجھی گئیں اسی بنیاد پر اتحادی فضائیہ نے محدود فضائی کارروائی کرتے ہوئے ان ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ رات کے وقت کیا گیا تاکہ کسی قسم کے جانی یا ضمنی نقصان سے بچا جا سکے، سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر اس حملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم یمن کی جنوبی عبوری کونسل کے زیر انتظام سیٹلائٹ چینل نے حملے کی تصدیق کی، البتہ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔برطانوی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق نشانہ بننے والے جہازوں میں سے ایک رول آن رول آف بحری جہاز تھا، جس کا نام گرین لینڈ بتایا جا رہا ہے، یہ جہاز سینٹ کٹس کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز 22 دسمبر کو فجیرہ میں تھا اور اتوار کے روز المکلہ پہنچا۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں المکلہ میں مبینہ طور پر نئی بکتر بند فوجی گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اسی جہاز کے ذریعے پہنچی تھیں۔یمنی امور کے ماہر محمد الباشا کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان محدود کشیدگی بڑھنے کا امکان ہیان کے مطابق اس حملے کے بعد امارات سے جنوبی عبوری کونسل کو اسلحے کی ترسیل میں کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ فضائی حدود سعودی عرب کے کنٹرول میں ہیں۔المکلہ یمن کے صوبہ حضرموت میں واقع ہے، جس پر جنوبی عبوری کونسل نے حالیہ دنوں میں کنٹرول حاصل کیا ہییہ شہر عدن سے تقریبا 480 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے، جو 2014 میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد سے حوثی مخالف قوتوں کا مرکز رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت دفاع کے بیان میں جنوبی عبوری کونسل علیحدگی پسند کی جانب سے کی حمایت کے مطابق کیا گیا گیا کہ یمن کے رہا ہے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :