سعودی اتحادی فورسز کے حملے، یمن میں 90 روز کیلئے ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق یمنی صدارتی کونسل نے ملک میں 90 روز کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، یمنی صدارتی کونسل کے مطابق یمن کی فضائی، بحری اور بری حدود 72 گھنٹوں کے لیے بند رہیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ یمن نے سعودی اتحادی فورسز کے حملے کے بعد ملک میں 90 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق یمنی صدارتی کونسل نے ملک میں 90 روز کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، یمنی صدارتی کونسل کے مطابق یمن کی فضائی، بحری اور بری حدود 72 گھنٹوں کے لیے بند رہیں گی۔ اس سے قبل کہا گیا کہ سعودی اتحاد فورسز نے مکلا بندرگاہ پر اتارے گئے اسلحے اور فوجی گاڑیوں کو محدود کارروائی میں نشانہ بنایا۔
سعودی اتحادی فورسز کی کارروائی اس وقت کی گئی، جب 2 بحری جہاز بغیر اجازت بندرگاہ میں داخل ہوئے اور مشرقی یمن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے لیے اسلحہ اور عسکری سامان اتارا گیا۔ اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ دونوں جہاز 27 اور 28 دسمبر 2025ء کو فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر مکلا پہنچے، انہوں نے اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یمنی صدارتی کونسل کے مطابق یمن کے لیے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔