غیر قانونی ہجرت پر امریکا کا سخت پیغام، بھارتی شہریوں کو سنگین سزاؤں کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
امریکا نے بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے سخت فوجداری کارروائی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات میں سرفہرست بتائی جا رہی ہے۔
منگل کے روز بھارت میں قائم امریکی سفارت خانے نے واضح کیا کہ امریکا اپنی سرحدوں کے تحفظ اور قوانین کی پاسداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا گیا کہ جو بھی فرد امریکی قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اسے سنگین فوجداری نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ امریکی حکومت اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
یہ وارننگ ایک ایسے پس منظر میں سامنے آئی ہے جہاں امریکا اور بھارت کے تعلقات میں واضح تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اس تناؤ کی بڑی وجوہات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ اور مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد امریکا کا پاکستان سے بڑھتا ہوا رابطہ شامل ہے، جسے نئی دہلی میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ امریکا نے اس نوعیت کی عوامی وارننگ دیگر ممالک جیسے پاکستان، افغانستان، شام، میانمار یا چین کے شہریوں کے لیے جاری نہیں کی، جس کے باعث یہ بیان بھارتی عوام اور حکومت دونوں کے لیے خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیغام نہ صرف غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت امریکی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بدلتے ہوئے عالمی اور سفارتی حالات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔