حکومت نے رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے 3.7 فیصد معاشی شرحِ نمو کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت سیکریٹری پلاننگ اویس منظور سمرا نے کی۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق حالیہ تباہ کن سیلاب کے باوجود معیشت کے تمام بڑے شعبوں میں نمو ریکارڈ کی گئی، جو زرعی نقصانات سے متعلق حکومتی ابتدائی رپورٹس کے برعکس ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر کی مدت میں مجموعی قدرِ افزائش 3.

71 فیصد رہی۔
کمیٹی نے بتایا کہ بجلی اور گیس کے شعبے میں 25 فیصد سے زائد جبکہ تعمیرات کے شعبے میں 21 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ زرعی شعبے میں بھی غیر متوقع بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر چاول کی پیداوار میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔
تفصیلات کے مطابق کاشت کے مجموعی رقبے میں 3.6 فیصد کمی کے باوجود چاول کی پیداوار 2.5 فیصد بڑھ کر تقریباً ایک کروڑ ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ وزارتِ منصوبہ بندی نے سیلاب کے بعد چاول کی پیداوار 83 سے 89 لاکھ ٹن کے درمیان رہنے کا تخمینہ دیا تھا، جو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو بھی فراہم کیا گیا تھا۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 744 ارب روپے کے براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات ہوئے، جن کا سب سے زیادہ بوجھ زرعی شعبے نے برداشت کیا۔ اس کے باوجود ابتدائی سہ ماہی میں حاصل ہونے والے معاشی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت نے رواں مالی سال کے آغاز پر 4.2 فیصد معاشی نمو کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم سیلاب کے بعد اسے کم کر کے 3.5 فیصد کر دیا گیا۔ اس کے باوجود نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے پہلی سہ ماہی کے لیے زراعت میں 2.9 فیصد، صنعت میں 9.4 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 2.4 فیصد شرحِ نمو کی منظوری دے دی ہے، جو ملکی معیشت میں بتدریج بحالی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے باوجود کے مطابق سیلاب کے سہ ماہی

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی