حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے زیراہتمام 5جنوری کو باغ میں ریلی کا انعقاد کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کر رکھا ہے جن میں عمل درآمد میں واحد رکاوٹ بھارت کی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیرِاہتمام 5جنوری کو یوم حق خودارادیت کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر کے شہر باغ میں ایک ریلی اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ریلی کے انعقاد کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، زاہد صفی، خادم حسین، شیخ محمد یعقوب، زاہد اشرف، عبدالمجید میر اور شیخ عبدالماجد شامل ہیں۔ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کر رکھا ہے جن میں عمل درآمد میں واحد رکاوٹ بھارت کی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 5 جنوری کو یوم حق خودارادیت کے موقع پر باغ میں ایک بڑی عوامی ریلی کا انعقاد کر کے دنیا بھر کے امن اور انصاف پسند ملکوں کو یہ یاد دلانے کی کوشش کی جائے گی کہ کشمیری سات داہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال حق خودارادیت سے محروم ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی چاہتے ہیں جس کے لیے وہ بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ نہتے کشمیریوں پر جاری وحشیانہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور انہیں ان کا ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت دلانے کیلئے کردار ادار کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حق خودارادیت میں کہا
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔