بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کیلئے ریاستی جبر سے باز رہے، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ترجمان ڈی ایف پی نے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل نہیں کیا جاتا، خطے میں امن و استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا اپنا مطالبہ دہرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے ایک بیان میں بھارت پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی جائز سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے اپنے جابرانہ ریاستی ہتھکنڈوں کے استعمال سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات سے مسئلہ کشمیر کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے، جسے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت سیاسی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کئے جانے بعد سیاسی رہنمائوں سے ان کے تنظیمی عہدوں اور پلیٹ فارمز کے استعمال سے زبردستی دستبردار کرایا جانا افسوسناک ہے۔
ارشد اقبال نے کہا کہ دھونس و دبائو، دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے سیاسی اظہارِ رائے کو دبانے سے تنازعہ نہ صرف شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے پرامن اور جمہوری حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر کی زمینی حقیقت کو تسلیم اور فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا جو کہ بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ڈی ایف پی کے ترجمان نے کہا کہ سیاسی رہنمائوں کو مسلسل غیر قانونی نظربندی، سیاسی جماعتوں اور این جی اوز پر پابندیاں اور اختلافِ رائے کو منظم طریقے سے کچلنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حقیقی عوامی سیاسی تحریکوں کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مذاکرات، انصاف اور جمہوری و انسانی حقوق کے احترام کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل نہیں کیا جاتا، خطے میں امن و استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ نہیں کیا انہوں نے کے ذریعے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :