امتحان میں فیل ہونے پر کم کارڈیشین رو پڑیں، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ریئلٹی شو سے مشہور امریکی سوشل میڈیا اسٹار کم کارڈیشین امتحان میں فیل ہونے پر رو پڑیں۔
ریئلٹی شو دی کارڈیشینز کے سیزن 7 کے فائنل میں کم کارڈیشین اس وقت جذباتی ہوکر رو پڑیں جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ کیلیفورنیا بار کے امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
اگرچہ ان کی ناکامی کی خبر گزشتہ ماہ ہی سامنے سامنے آ چکی تھی جسے انہوں نے خود بھی شیئر کیا تھا لیکن شو میں دکھایا گیا یہ لمحہ ناظرین کے لیے کہیں زیادہ ذاتی اور اثر انگیز ثابت ہوا۔
قسط میں دکھایا گیا کہ کم اپنے خاندان کے ساتھ صوفے پر بیٹھی نتائج کا انتظار کر رہی تھیں۔ جیسے ہی مقررہ وقت پر نتائج آئے، تو انہوں نے مایوسی کے ساتھ کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ پاس نہیں ہو سکیں گی۔
اس دوران ان کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
Kim Kardashian broke down in tears after learning she failed the California bar exam.
کم نے بتایا کہ امتحان کے دوران انہیں اپنے جوابات خاص طور پر مضامین کمزور محسوس ہوئے تھے، اسی لیے انہیں خدشہ تھا کہ نتیجہ ان کے حق میں نہیں آئے گا۔
ان کی والدہ کرس جینر نے ان کی محنت کو سراہتے ہوئے ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ بہن خلوئے کارڈیشین نے رائے دی کہ شوٹنگ اور دیگر مصروفیات شاید تیاری پر اثر انداز ہوئیں۔
کم کے قانون کے استاد نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ناکامی ان کی صلاحیتوں کی عکاس نہیں، اور وہ کامیابی کے بہت قریب تھیں۔
کم نے مایوسی کے باوجود ہمت نہ ہارنے کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ وہ بار امتحان دوبارہ دینے کے لیے تیار ہیں۔
View this post on Instagram
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔