حامد خان: آئین کو 26ویں ترمیم میں قتل اور 27ویں میں دفن کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن حامد خان نے کہا ہے کہ آئین کو 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قتل اور 27ویں ترمیم کے ذریعے دفن کر دیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں پروفیشنل گروپ کی پریس کانفرنس کے دوران حامد خان نے کہا کہ ملک پر ایک ناجائز حکومت مسلط کی گئی، اور ان اسمبلیوں نے آئین میں ایسی ترامیم کیں جس کا وہ اختیار نہیں رکھتیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے قائم کی گئیں۔
حامد خان نے مزید کہا کہ جو لوگ سیاسی طور پر آواز بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی زبان بندی کی جا رہی ہے، اور ملک میں جو جبر اور زیادتی ہو رہی ہے وہ اب تک کم ہی دیکھی گئی ہے۔
انہوں نے دعا کی کہ نیا سال خوش آئند ہو، کیونکہ 2025 اور اس سے پہلے کے سال ملک کے لیے انتہائی مشکل اور بھیانک ثابت ہوئے۔
حامد خان نے یہ بھی کہا کہ ان کی دونوں بار ایسوسی ایشنز نے اس معاملے میں لیڈنگ رول ادا کیا، جبکہ دوسرا گروپ اب حکومتی گروپ بن چکا ہے اور ان ترامیم کے لیے اس کے رہنماؤں کا ہاتھ بھی ہے۔ عدلیہ کے خلاف اقدامات کے خلاف مزاحمت کا زیادہ بوجھ پروفیشنل گروپ پر ہے، اور آئندہ منتخب صدور اس معاملے کو آگے لے کر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی خطرے میں ہے، اور جب بھی آئینی اداروں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ ہوئی، ان کے وکلاء آگے آئے۔ امید ہے کہ آئندہ وکلاء اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم نہ بنیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے صدر ان کی پسند کے مطابق منتخب تھے، لیکن اندازہ نہیں تھا کہ اسٹیبلشمنٹ پیسے کے استعمال سے اس عمل میں دخل دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔