ملک محمد احمد خان نے کہا کہ انہیں اسپیکر خیبرپختونخوا (کے پی) کا خط ابھی موصول نہیں ہوا، مگر وہ پرامید ہیں کہ خط میں جمہوری اور آئینی باتیں لکھی گئی ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ اسپیکر کے پی عوامی طبقے کے ساتھ آئینی گفتگو کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے دستخط کردیے، پنجاب میں ہتک عزت بل قانون بن گیا

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ وہ خط پڑھ کر جواب دینا چاہتے ہیں اور اسپیکر کے پی اکثر خطوط بھیجتے رہتے ہیں، جنہیں وہ محبت اور احترام کے ساتھ لیتے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی اہمیت اور وہاں کے عوام کے کردار کو اجاگر کیا، کہا کہ ہر شخص پاکستان کا مالک ہے اور یہ صوبہ ملک کا فخر ہے۔

مزید پڑھیں: ملک محمد احمد خان اسپیکر، ملک ظہیر اقبال چنڑ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

ملک محمد احمد خان نے یہ بھی واضح کیا کہ غیر مجاز افراد اور ہجوم کو کسی بھی سرکاری یا محفوظ جگہ پر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، خاص طور پر وہ لوگ جو پاکستان کے جھنڈے جلانے یا ملک پر حملے میں ملوث رہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے پی کو داخلے کی خصوصی اجازت دی، لیکن صرف محدود اور مجاز افراد کے لیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیکر کے پی ملک محمد احمد خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپیکر کے پی ملک محمد احمد خان ملک محمد احمد خان نے اسپیکر کے پی

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم