دنیا میں سب سے پہلے کون سا ملک 2026ء میں داخل ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
دنیا میں سب سے پہلے کون سا ملک 2026ء میں داخل ہوگا؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 31 December, 2025 سب نیوز
دنیا میں سب سے پہلے سال 2026ء میں داخل ہونے کا اعزاز بحرالکاہل میں واقع جزیرہ ملک کریباتی (Kiribati) کو حاصل ہوگا۔
بین الاقوامی وقت کے نظام کے مطابق کریباتی کے لائن آئی لینڈز خصوصاً کریسمس آئی لینڈ (Kiritimati) دنیا کے سب سے آگے چلنے والے ٹائم زون UTC+14 میں واقع ہیں۔
اسی ٹائم زون کی وجہ سے کریباتی میں یکم جنوری 2026ء کا آغاز دنیا کے تمام ممالک سے پہلے ہو جائے گا، جبکہ اس وقت دنیا کے کئی خطوں میں ابھی 31 دسمبر 2025ء جاری ہوگا۔
ماہرین کے مطابق کریباتی کے بعد ساموا، ٹونگا اور نیوزی لینڈ نئے سال میں داخل ہوں گے، جبکہ دنیا میں سب سے آخر میں نیا سال امریکی ریاست ہوائی اور دیگر امریکی جزائر میں منایا جاتا ہے۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی نئے سال کے پہلے لمحات، آتش بازی اور تقریبات کے باعث دنیا بھر کی نظریں کریباتی پر مرکوز رہیں گی، جہاں سب سے پہلے 2026ء کا آغاز ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر’’اب ہم اعلیٰ عدلیہ نہیں ہیں‘‘جسٹس جمال مندوخیل کے کیس کی سماعت میں ریمارکس ’’اب ہم اعلیٰ عدلیہ نہیں ہیں‘‘جسٹس جمال مندوخیل کے کیس کی سماعت میں ریمارکس چترال: روسی شہری نے 68 ہزار ڈالر دیکر کشمیری مارخور کا شکار کرلیا نئے سال کا نیا تحفہ! یکم جنوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ترک صدر کا اسرائیل کو سخت پیغام، صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ناقابلِ قبول قرار دے دیا امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ سی ڈی اے پلاننگ ونگ سے بڑی خبر، ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر کو 20 سکیل میں ترقی دیدی گئی،نوٹیفکیشن سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دنیا میں سب سے سب سے پہلے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔