پشاور کا درجہ حرارت صفر ڈگری تک گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گزشتہ روز سے جاری بارش رکنے کے بعد سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برف باری کے باعث موسم شدید سرد ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
پشاور میں گزشتہ روز سے جاری بارش کا سلسلہ رک گیا ہے اور کم سے کم درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ سرد موسم کے باعث شہریوں کو شدید سردی کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ آج دوپہر کے بعد بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق رواں برس بارشوں کے معمول سے ہٹ کر ہونے کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، جس کے اثرات ملک کے مختلف حصوں میں واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
???? مغربی ہواؤں کے زیر اثر ملک کے مختلف علاقوں میں بارش موسم سرد پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری رات گئے سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا آغاز ہوا جنوبی بالائی سندھ اور شمالی بلوچستان میں زبردست بارشیں ریکارڈ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بالائی مشرقی پنجاب خیبرپختونخوا… pic.
— WeatherWalay (@weatherwalay) December 31, 2025
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع مستونگ اور گردونواح میں رات بھر وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی، جبکہ پہاڑی علاقوں میں برف باری سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ادھر ضلع کرک میں بھی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے موسم سرد ہو گیا ہے۔
شمالی علاقوں میں متوقع برف باری کے پیش نظر مری اور گلیات میں محکمہ ہائی وے پنجاب نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ نے محکمہ ہائی وے کو مکمل الرٹ رہنے، برف ہٹانے کے لیے مشینری ہمہ وقت فعال رکھنے اور شاہراہوں پر بروقت نمک کے چھڑکاؤ کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بارشیں کہیں برفباری، کیا خشک سالی کا خاتمہ ہو پائے گا؟
مجموعی طور پر ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرد اور خشک ہے، تاہم بالائی اور مغربی علاقوں میں بارش اور برف باری کے باعث سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ چند روز کے دوران درجہ حرارت میں مزید کمی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش پشاور بارش سردی موسم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور بارش علاقوں میں بارش کا سلسلہ کے مختلف بارش کا گیا ہے ملک کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان