بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ادا، پاکستان سمیت عالمی شخصیات کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور دو مرتبہ ملک کی قیادت کرنے والی خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ڈھاکا میں ادا کر دی گئی۔
نمازِ جنازہ بنگلادیش کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے میا مانک ایونیو میں ہوئی، جس میں سیاسی رہنماؤں، حکومتی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ میں بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس بھی موجود تھے، جبکہ حکومتِ پاکستان کی نمائندگی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سردار ایاز صادق نے پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے خالدہ ضیا کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔
مزید پڑھیںبنگلادیش؛ سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلان کردیا گیا
سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے انتقال پر بنگلا دیش پریمیئر لیگ کے میچز عارضی طور پر ملتوی
ذرائع کے مطابق خالدہ ضیا کو ان کے شوہر اور بنگلادیش کے سابق صدر ضیا الرحمان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ خالدہ ضیا دو روز قبل ڈھاکا کے ایک اسپتال میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔
وہ 1991 سے 1996 اور 2001 سے 2006 تک بنگلادیش کی وزیراعظم رہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ملک میں مختلف سرگرمیاں، جن میں بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے میچز بھی شامل ہیں، سوگ کے باعث ملتوی کر دیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلادیش کی خالدہ ضیا
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔