خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک دور ختم
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سابق وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کی نمازہ جنازہ ادا کردی گئی۔ اس سے قبل ان کا جسدِ خاکی بدھ کے روز دوپہر کے وقت جاتیائیہ سنگشد بھون کے قریب مانک میا ایونیو پہنچایا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے انہیں آخری بار دیکھنے اور الوداع کہنے کے لیے جمع ہونا شروع کر دیا۔
خالدہ ضیاء کا جسدِ خاکی ایک ایمبولینس کے ذریعے گُلشن میں واقع ان کے صاحبزادے طارق رحمان کی رہائش گاہ سے روانہ ہو کر مانک میا ایونیو پہنچا۔ اس سے قبل وہاں اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے ان کو آخری سلام پیش کیا۔
بیگم خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ دوپہر 2 بجے قومی پارلیمنٹ کے احاطے میں ادا کی گئی، جبکہ بڑے اجتماع کے پیش نظر مانک میا ایونیو کو بھی جنازہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
اس سے قبل صبح تقریباً 9 بجے سے کچھ دیر پہلے خالدہ ضیاء کا جسدِ خاکی ایور کیئر اسپتال سے قومی پرچم میں لپیٹ کر گُلشن منتقل کیا گیا تھا، جہاں بی این پی کے سینئر رہنما، قریبی عزیز و اقارب اور پارٹی کارکنان موجود تھے۔
صبح سویرے ہی ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ کئی افراد صبح 4 بجے ہی وہاں موجود تھے، جبکہ بیشتر نے سوگ کی علامت کے طور پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔
سوگواروں میں نواکھالی، فینی، برہمن بریا، بھولا، بوگرا اور میمن سنگھ سمیت مختلف اضلاع سے آئے افراد شامل تھے۔ اس موقع پر ملکی و غیر ملکی سینئر سیاسی رہنماؤں اور سفارت کاروں نے بھی شرکت کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
جنازے میں شریک متعدد افراد کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ خالدہ ضیاء کی سیاسی جدوجہد اور خدمات کو یاد کرتے دیکھا گیا۔
نمازِ جنازہ کے بعد دوپہر تقریباً ساڑھے 3 بجے بیگم خالدہ ضیاء کو ان کے مرحوم شوہر، سابق صدر اور بی این پی کے بانی ضیاء الرحمٰن کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سخت گیر اور اصول پسند سیاسی رہنما کے طور پر پہچانی جانے والی بیگم خالدہ ضیاء منگل کی صبح 6 بجے ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے انتقال کر گئی تھیں۔
ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم اور تین بار حکومت کی سربراہ رہنے والی شخصیت کے انتقال نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔
ان کی وفات نہ صرف ایک اہم سیاسی باب کے اختتام کی علامت ہے بلکہ یہ ایک ایسے دور کے خاتمے کی بھی نشاندہی کرتی ہے، جس میں خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی سیاست کی سب سے مضبوط اور بااثر آوازوں میں شمار ہوتی رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیگم خالدہ ضیاء
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔