دہشتگردوں کی سینیٹر راجہ ناصر کی جامعہ کو دھمکی قابل مذمت ہے، ایم ڈبلیو ایم بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم جنوبی بلوچستان نے مطالبہ کرتے کیا کہ ریاستی ادارے خواب غفلت سے بیدار ہوں، فوری، سنجیدہ اور مؤثر کارروائی عمل میں لائیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی بلوچستان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے افغان کمانڈر پڑوچکی کی جانب سے ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی درسگاہ اور یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کی کھلی اور براہ راست دھمکی نہایت تشویشناک، قابلِ مذمت اور ریاستی رٹ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ ایم ڈبلیو ایم جنوبی بلوچستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ مذکورہ دہشتگرد نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر بھی شیئر کی ہے، جس میں یونیورسٹی پر واضح طور پر ٹارگٹ کا نشان بنایا گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشتگرد عناصر نہ صرف منظم ہیں بلکہ ریاست کے حساس ترین مقامات تک رسائی کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین جنوبی بلوچستان اس موقع پر ریاست اور ریاستی طاقتور اداروں سے یہ سوال کرنا اپنا آئینی اور اخلاقی حق سمجھتی ہے کہ اگر دہشتگردی کی کمر واقعی توڑ دی گئی ہے، تو پھر ایسے دہشتگرد عناصر دارالحکومت اور تعلیمی اداروں تک کیسے پہنچ رہے ہیں؟ دہشتگردی کے خاتمے کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ ہم اس کھلی دہشتگردانہ دھمکی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے خواب غفلت سے بیدار ہوں، فوری، سنجیدہ اور مؤثر کارروائی عمل میں لائیں، اور ان غلیظ دہشتگردوں کو آہنی ہاتھوں سے لگام دیں، تاکہ ملک کے علماء، تعلیمی ادارے، طلبہ اور عام شہری محفوظ رہ سکیں۔ ملک کی سلامتی، عوام کا تحفظ اور ریاستی رٹ کا قیام کسی قسم کی غفلت، کمزوری یا مصلحت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر اس قسم کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا، تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنوبی بلوچستان ایم ڈبلیو ایم
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔