کراچی میں 55 سال بعد شروع ہونے والی ڈبل ڈیکر بس کا شاندار سفر
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
کراچی والوں کے لیے خوشخبری ہے کہ شہر میں عوامی سفر کے لیے جدید ڈبل ڈیکر بسوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ سروس سندھ حکومت کی جانب سے نئے سال (2026) کے تحفے کے طور پر شروع کی گئی ہے۔
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 31 دسمبر 2025 کو ان بسوں کا افتتاح کیا۔ یہ بسیں یکم جنوری 2026 سے باقاعدہ مسافروں کے لیے سڑکوں پر رواں دواں ہوں گی۔ ابتدائی طور پر یہ ڈبل ڈیکر بسیں شہر کی مرکزی شاہراہ، شارع فیصل پر چلیں گی۔ یہ بسیں مسافروں کو ملیر سے لے کر صدر (زینب مارکیٹ) اور ٹاور تک سفر کی سہولت فراہم کریں گی۔
ان بسوں کا کرایہ انتہائی مناسب رکھا گیا ہے جو کہ 80 سے 120 روپے کے درمیان ہونے کا امکان ہے۔ حکومت کا مقصد اسے عام شہریوں کی پہنچ میں رکھنا ہے۔ ایک بس میں تقریباً 115 سے 120 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ بسیں ایئرکنڈیشنڈ ہیں، لیکن ان کی چھت کو ضرورت کے مطابق کھولا اور بند کیا جا سکتا ہے۔ خوشگوار موسم میں چھت کھلی رکھی جائے گی تاکہ مسافر شہر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
شرجیل میمن کے مطابق سال 2026 میں ان بسوں کی تعداد اور روٹس میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ شہر کے دیگر علاقوں کو بھی کور کیا جا سکے۔ یہ اقدام کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں ایک اہم پیشرفت ہے، کیونکہ آخری بار کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں 1970 کی دہائی میں دیکھی گئی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔