کراچی:

شہر قائد میں تقریباً نصف صدی کے بعد ڈبل ڈیکر بسیں آج سڑکوں پر رواں دواں ہیں، جس سے کراچی کے باسیوں کی پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن  اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کراچی میں ڈبل بسوں کا افتتاح کردیا، جو آزمائشی طور پر ملیر سے شاہراہ فیصل تک چلائی گئی ہیں۔ اس موقع پر حکام کی جانب سے وزرا کو بسوں کی خصوصیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  ہم نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا اور کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز ہوگیا ہے۔  2026ء  میں عوام کو ٹرانسپورٹ کی پہلے سے زیادہ سہولیات دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر نئے سال میں ہر سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں ہوں گی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ عوام کو سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ پیپلز بس میں روزانہ ایک لاکھ مسافر سفر کررہے ہیں۔ سندھ کے ہر ضلع میں بس سروس شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں انڈسٹریل ایریا کی سڑکوں کے لیے9 ارب روپے دیں گے۔ سندھ حکومت کا شاہراہ بھٹو ایک عظیم منصوبہ ہے۔

مزید پڑھیں

لاہور: ڈبل ڈیکر بس سروس کی آمدن اور سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

ڈبل ڈیکر بسیں پہنچ گئیں، شرجیل انعام میمن کی جانب سے کراچی کےعوام کےلیے بڑی خوشخبری

انہوں نے پاکستانی قوم کو نئے سال کی پیشگی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اورنج لائن ار گرین لائن کے ذریعے بڑی تعداد میں  کراچی کے شہریوں کو سہولت فراہم  کرنا چاہتے ہیں اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی کرے گی۔

واضح رہے کہ ڈبل ڈیکر بسوں سے کراچی کی تاریخ کا گہرا تعلق رہا ہے۔ ماضی میں 1960ء  اور 1970ء  کی دہائی میں یہ بسیں شہر کی پہچان سمجھی جاتی تھیں جو صدر، بندر روڈ، ایم اے جناح روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر چلتی تھیں۔ ان بسوں کی اوپری منزل پر بیٹھ کر سفر کرنا شہریوں کے لیے ایک خوشگوار تجربہ سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر طلبہ اور نوجوانوں میں یہ بسیں خاصی مقبول تھیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی آبادی، ٹریفک کے دباؤ اور دیکھ بھال کے مسائل کے باعث ڈبل ڈیکر بسیں آہستہ آہستہ سڑکوں سے غائب ہو گئیں۔ بعد ازاں منی بسوں اور کوچز نے ان کی جگہ لے لی، تاہم عوامی سطح پر ڈبل ڈیکر بسوں کی واپسی کی خواہش ہمیشہ موجود رہی۔

حالیہ آزمائشی سروس کو اسی تاریخی پس منظر کے تناظر میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں جدید سہولیات سے آراستہ مزید ڈبل ڈیکر بسیں شہر کے مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ کراچی کے ماضی کی ایک خوبصورت روایت بھی دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈبل ڈیکر بسیں ڈبل ڈیکر بس کراچی کے کہا کہ

پڑھیں:

تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی

 ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔

  چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

 ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔

 چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟