اسٹاک مارکیٹ میں سال 2025 سرمایہ کاروں کیلئے فائدہ مند ،موجیس لگ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
(سٹی 42) اسٹاک مارکیٹ میں سال 2025 سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند اور اعتماد کا سال ثابت ہوا ۔تاریخ ساز ریکارڈز کے باعث سرمایہ کاروں کی موجیں لگ گئیں۔ اسٹاک مارکیٹ نے جنوری 2025 سے دسمبر تک 55 فیصد منافع فراہم کیا ۔ایک سال میں 60 ہزار 106 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا ۔سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
تفصیلات کے مطابق ہنڈریڈ انڈیکس کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 75 ہزار 232 کی بلند سطح تک گیا ،سال 2024 میں ہنڈریڈ انڈیکس میں 52 ہزار 675 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا سال 2024 کا اختتام 1 لاکھ 15 ہزار 126 کی سطح پر ہوا تھا ۔سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ نئے ٹرینڈنگ اکاؤنٹ کھلے ۔یوں اس کی تعداد سال 2025 میں پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار سے ہوگئی۔ سال 2025 میں فی شیئر آمدنی پر منافع کا حصول 6 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد ہوگیا ، اسٹاک مارکیٹ میں مارکیٹ کیپیٹلائزیشن ساڑھے چودہ ہزار ارب روپے سے بڑھ کر ساڑھے انیس ہزار ارب سے تجاوز کر گئی ،مارکیٹ کیپیٹلائزیشن میں پانچ ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ۔
ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی
ڈائیریکٹر اسٹاک ایکسچینج احمد چنائے کا کہنا ہے کہ نئے سال پر بھی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رہے گا ۔ احمد چنائے کا کہنا ہے کہ سال 2026 پاکستان کی ترقی کا سال ہوگا ۔ اسٹاک مارکیٹ مزید ترقی کرے گی نئے سرمایہ کار بھی ساتھ جڑیں گے ۔ سال 2025 میں 7 لسٹنگ آئیں، امید ہے 2026 میں 12 لسٹنگ آسکتی ہیں ۔
ڈائریکٹر عارف حبیب کارپوریشن احسن محنتی کا کہنا ہے کہ تاریخی سنگِ میل حکومتی اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، اسٹاک مارکیٹ کی شاندار کارکردگی سے سرمایہ کاروں کو بھرپور منافع ملا۔
سینیئرز کی عزت ۔۔۔ کامیابی کی ضمانت۔۔۔ نرگس اور ریما کا کیا موازنہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسٹاک مارکیٹ سال 2025 سرمایہ کاروں سرمایہ کاروں اسٹاک مارکیٹ اسٹاک مارکیٹ سال 2025 سال 2025 اسٹاک مارکیٹ اسٹاک مارکیٹ سال 2025 سرمایہ کاروں اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاروں اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں اضافہ ہوا کی تعداد سال 2025
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔