پاکستان کا سب سے بڑا سکوک بانڈ جاری؛ عالمی مالیاتی میدان میں نیا سنگِ میل
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ایس آئی ایف سی کے انقلابی اصلاحاتی اقدامات نے پاکستان کے مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبے کو استحکام فراہم کرتے ہوئے نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی بے مثال مواقع پیش کر رہی ہے اور اب یہ مارکیٹ عالمی مرکز کے طور پر ابھری ہے۔ حکومتِ پاکستان مستقبل کے لیے مستحکم اور پائیدار اسلامی مالیاتی نظام کی تشکیل میں سرگرم ہے۔
2025 میں حکومت کی جانب سے سب سے بڑے سکوک بانڈ کے تاریخی اجرا نے عالمی مالیاتی میدان میں ایک نیا سنگِ میل عبور کر دیا۔ وزارتِ خزانہ نے ڈیٹ مینجمنٹ آفس اور جوائنٹ فنانشل ایڈوائزرز کے اشتراک سے 2 کھرب روپے سے زائد سکوک بانڈ جاری کر کے ایک اہم کامیابی حاصل کی۔
رواں سال کے دوران 61 سکوک بانڈز جاری کیے گئے، جو ایک، تین، پانچ اور دس سالہ مدت کے لیے تھے، اور فکسڈ و ویری ایبل ریٹ ریٹرنز کے تحت سرمایہ کاروں کو پیش کیے گئے۔ پاکستان کے پہلے گرین سکوک بانڈ کی تاریخی کامیابی کے دوران یہ 5.
کلیدی اثاثوں میں پاکستان ریلوے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، ایئرپورٹس، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر اہم قومی ادارے شامل ہیں۔ سن 2019 سے 2025 کے دوران سکوک بانڈ کے مجموعی اجرا کا حجم 8.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔
پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ میں یہ سنگِ میل نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ ملک کی مالیاتی مضبوطی اور اقتصادی ترقی کی نئی داستان رقم کر رہا ہے۔ شریعت کے مطابق سرمایہ کاری میں دلچسپی نے ملکی اقتصادی بصیرت اور دیرپا ترقی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ مضبوط میکرو اکنامک بنیادیں، منظم قرضہ حکمت عملی اور واضح اسلامی مالیاتی روڈ میپ نے ترقی کی راہ مزید ہموار کر دی ہے۔
ایس آئی ایف سی کی مربوط اور مؤثر حکمت عملی کے باعث پاکستان کا اسلامی سرمایہ کاری اور مالیاتی شعبہ اب عالمی سطح پر مستحکم اور معتبر مقام حاصل کر چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلامی مالیاتی سرمایہ کاروں سکوک بانڈ
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎