جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، غزہ پر اسرائیلی حملے جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
غزہ :(ویب ڈیسک)غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ۔ قابض اسرائیلی افواج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ فضائی حملوں میں رفح کے شمالی علاقے، خان یونس کے مشرقی حصے، وسطی غزہ کے مغازی کیمپ اور بیت لاہیا کو نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی اور وسطی غزہ میں گولہ باری کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں جبکہ شدید بارشوں کے باعث بے گھر لاکھوں فلسطینیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اسرائیل اب تک جنگ بندی کے نفاذ کے بعد 969 خلاف ورزیاں کر چکا ہے، جن کے نتیجے میں 400سے زیادہ شہری شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ادھر مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مزید ایک فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔