غیرملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
چترال کے علاقے گہریت گول میں ایک غیرملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر لیا۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق روسی شکاری نے مارخور کے شکار کا لائسنس 68 ہزار امریکی ڈالرز میں حاصل کیا تھا، یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا جبکہ شکار کیے گئے مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ریکارڈ کی گئی ہے، شکار نان ایکسپورٹیبل کوٹے کے تحت کیا گیا جس کے تحت شکار شدہ جانور ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہنٹنگ پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا، اس پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلی حیات کا تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام اور مقامی لوگوں کو معاشی فوائد فراہم کرنا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات نے واضح کیا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام بین الاقوامی قوانین اور مقررہ ضوابط کے مطابق جاری رکھا جا رہا ہے تاکہ نایاب جانوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔