چترال میں کشمیری مارخور کا شکار، روسی شکاری نے 68 ہزار ڈالرز ادا کیے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
چترال کے علاقے گہریت گول میں ایک غیرملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کیا۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق، روسی شہری نے مارخور کا شکار کرنے کے لیے لائسنس حاصل کیا، جس کی قیمت 68 ہزار امریکی ڈالرز تھی۔ شکار کیے گئے مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ جنگلی حیات نے بتایا کہ یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کو فروغ دینا ہے بلکہ مقامی کمیونٹی کو معاشی فوائد بھی فراہم کرنا ہے۔ ہنٹنگ پروگرام کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔
شکار نان ایکسپورٹیبل کوٹے کے تحت کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ اس کا براہِ راست برآمدی مقصد نہیں تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔