اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا متنازعہ فیصلہ کیوں کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علیحدہ خطے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اگرچہ اس اقدام کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا سامنا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے اس فیصلے کے پیچھے کئی اہم اسٹریٹجک، سیکیورٹی اور جغرافیائی عوامل کارفرما ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: صومالی لینڈ کا تنازع سنگین عالمی بحران میں بدل گیا، آخر یہ معاملہ ہے کیا؟
ماہرین کے مطابق اسرائیل بحیرہ احمر کے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانا چاہتا ہے، جو عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ صومالی لینڈ کی جغرافیائی حیثیت خلیجِ عدن کے دہانے پر واقع ہے، جہاں سے اسرائیل کو نہ صرف بحیرہ احمر بلکہ یمن تک قریبی رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی تھنک ٹینکس کے مطابق صومالی لینڈ اسرائیل کے لیے خاص طور پر یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف مستقبل کی کسی بھی کارروائی کی صورت میں ایک ممکنہ سیکیورٹی شراکت دار بن سکتا ہے۔ غزہ جنگ کے بعد حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے تناظر میں تل ابیب خطے میں ایسے اتحادی تلاش کر رہا ہے جو اسے انٹیلی جنس اور آپریشنل سہولتیں فراہم کر سکیں۔
مزید برآں، اسرائیل ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے بھی افریقہ کے اس حصے میں قدم جمانا چاہتا ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر اسلحے اور جنگجوؤں کی ترسیل کا ایک اہم راستہ رہا ہے، جس پر کنٹرول اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں عدم استحکام اور علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دے سکتا ہے، جس کے باعث اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
somali land اسرائیل افریقہ صومالی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل افریقہ صومالی لینڈ صومالی لینڈ کو کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔