اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علیحدہ خطے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اگرچہ اس اقدام کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا سامنا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے اس فیصلے کے پیچھے کئی اہم اسٹریٹجک، سیکیورٹی اور جغرافیائی عوامل کارفرما ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: صومالی لینڈ کا تنازع سنگین عالمی بحران میں بدل گیا، آخر یہ معاملہ ہے کیا؟

ماہرین کے مطابق اسرائیل بحیرہ احمر کے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانا چاہتا ہے، جو عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ صومالی لینڈ کی جغرافیائی حیثیت خلیجِ عدن کے دہانے پر واقع ہے، جہاں سے اسرائیل کو نہ صرف بحیرہ احمر بلکہ یمن تک قریبی رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی تھنک ٹینکس کے مطابق صومالی لینڈ اسرائیل کے لیے خاص طور پر یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف مستقبل کی کسی بھی کارروائی کی صورت میں ایک ممکنہ سیکیورٹی شراکت دار بن سکتا ہے۔ غزہ جنگ کے بعد حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے تناظر میں تل ابیب خطے میں ایسے اتحادی تلاش کر رہا ہے جو اسے انٹیلی جنس اور آپریشنل سہولتیں فراہم کر سکیں۔

مزید برآں، اسرائیل ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے بھی افریقہ کے اس حصے میں قدم جمانا چاہتا ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر اسلحے اور جنگجوؤں کی ترسیل کا ایک اہم راستہ رہا ہے، جس پر کنٹرول اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں عدم استحکام اور علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دے سکتا ہے، جس کے باعث اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

somali land اسرائیل افریقہ صومالی لینڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل افریقہ صومالی لینڈ صومالی لینڈ کو کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ