data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن/تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں اور وہ جلد ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ابراہیمی معاہدے نسبتاً تیزی سے مزید توسیع پائیں گے اور سعودی عرب کی شمولیت بھی بس کچھ وقت کی بات ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب نے وہ سب کچھ کیا ہے جس کی ہم توقع کرسکتے ہیں۔ وہ اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے معاملات چلا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے موقع پر ایران کی جانب سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی صورت میں ایران پر دوبارہ حملے کی حمایت کی۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پھر جوہری تنصیبات تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایران نے جوہری تعمیرات جاری رکھیں تو ان پر فوری حملوں کی حمایت کریں گے۔صدر ٹرمپ کاکہنا تھا کہ اگر ایران جوہری پروگرام دوبارہ تعمیر کرے تو ہمیں انہیں گرانا ہوگا۔دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملے کی دھمکی کے بعد کسی بھی ممکنہ حملے پر سخت ردعمل کا اعلان کر دیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جارحیت کے خلاف ایران کا ردعمل بہت سخت ہوگا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا کسی بھی ناجائز جارحیت کے جواب میں ردعمل شدید ہوگا۔اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ نے بھی حق دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔ اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی سے اجازت لینے کا محتاج نہیں، کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ایرانی عوام کا ردعمل غیرمتوقع ہوگا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کسی بھی کہا کہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل