آپریشن سندور پر چین اور ٹرمپ کے ثالثی کے دعوؤں پر نریندر مودی وضاحت کریں، جے رام رمیش
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
کانگریس لیڈر کے مطابق ٹرمپ یہ بات مختلف فورمز پر کم از کم 65 مرتبہ اور سات ممالک میں دہرا چکے ہیں، مگر اس پر وزیر اعظم کیجانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے ایکس پر جاری بیان میں آپریشن سندور کو اچانک روکنے سے متعلق بین الاقوامی دعوؤں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ انہوں نے 10 مئی 2025ء کو ذاتی مداخلت کے ذریعے آپریشن سندور کو رکوا دیا۔ جے رام رمیش کے مطابق ٹرمپ یہ بات مختلف فورمز پر کم از کم 65 مرتبہ اور سات ممالک میں دہرا چکے ہیں، مگر اس پر وزیر اعظم کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اب چین کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھی ثالثی کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جے رام رمیش نے یاد دلایا کہ 4 جولائی 2025ء کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف راہل سنگھ نے عوامی طور پر کہا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران ہندوستان دراصل چین کا بھی سامنا کر رہا تھا۔ ایسے میں، جب چین پاکستان کے ساتھ واضح طور پر ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چینی ثالثی کا دعویٰ نہایت تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق یہ دعوے نہ صرف اس بیانیے سے متصادم ہیں جو اب تک عوام کے سامنے رکھا گیا، بلکہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو غیر سنجیدہ بنانے کے مترادف بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے کو چین کے ساتھ ہندوستان کے موجودہ تعلقات کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔
جے رام رمیش کے بقول اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ روابط کا آغاز ہوا ہے، مگر یہ عمل زیادہ تر چینی شرائط پر آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے 19 جون 2020ء کو چین کو دی گئی مبینہ کلین چٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے ہندوستان کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے اور ہندوستانی برآمدات بڑی حد تک چینی درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ اروناچل پردیش سے متعلق چین کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ ایسے یک طرفہ اور مخاصمانہ حالات میں عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آپریشن سندور کو روکنے میں چین نے آخر کیا کردار ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔