علماء حکومتی ترجمان بننے کے بجائے قوم کی رہنمائی کریں، قاضی عبدالقدیر خاموش
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سرپرست جمعیت اہلحدیث کا علماء کے وفد سے گفتگو میں کہنا تھا کہ قرآن و سنت کے منافی ترامیم کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، علمائے کرام کے نرم اور معذرت خواہانہ رویے کی وجہ سے دینی قوتیں کمزور ہوتی ہیں، نمائندہ اسلامی جماعتوں کی مشاورت سے غیر آئینی اقدامات کیخلاف مزاحمتی تحریک کا اعلان کیا جائے، شخصیات کو مضبوط کرنے کی بجائے سیاسی نظام کو مضبوط کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سرپرست اور اے آر ڈی کے سابق جنرل سیکرٹری قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا ہے کہ علماء قرآن و سنت کا درس دینے والے دانشور ہیں، انہیں حکومتی ترجمان بننے کے بجائے حالات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کر کے قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ویں اور 28 ویں ترامیم قرآن و سنت اور آئین کے منافی ہیں، انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ علمائے کرام کے نرم اور معذرت خواہانہ رویے کی وجہ سے دینی قوتیں کمزور ہوتی ہیں، مذہبی جماعتیں اکٹھی ہوں تاکہ تمام مکاتب فکر کی نمائندہ اسلامی جماعتوں کی مشاورت سے اتحاد تشکیل دے کر غیر آئینی اقدامات کیخلاف مزاحمتی تحریک کا اعلان کیا جائے۔
قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہاکہ حکومت کی طرف سے منظور کردہ ترامیم کو عدالت میں بھی چیلنج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا ساتھ دیا ہے، آئین کی بالادستی دلیل ہے کہ ریاست صحیح معنوں میں کام کر رہی ہے، اگر آئین کی بالا دستی قبول نہیں کی جائے گی تو ملکی سلامتی کو بھی خطرات ہو سکتے ہیں، ملکی نظام کی تباہی کسی صورت برداشت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو کسی صورت عوامی حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، عوامی دباو سے ہی حکمرانوں کو آئین کی راہ دکھائی جا سکتی ہے کہ شخصیات کو مضبوط کرنے کی بجائے سیاسی نظام کو مضبوط کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا جائے کو مضبوط کہنا تھا آئین کی
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔