لاہور:

پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن حامد خان کا کہنا ہے کہ آئین کو 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قتل کیا گیا اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کی تدفین کی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ میں پروفیشنل گروپ کی پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما حامد خان نے کہا کہ ایک ناجائز حکومت ہمارے سروں پر مسلط کی گئی، ان اسمبلیوں نے آئین میں ایسی ترامیم کیں جس کا وہ اختیار بھی نہیں رکھتی تھیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے بنائی گئیں۔

حامد خان نے کہا کہ جو سیاسی طور پر آواز بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انکی زبان بندی ہو رہی ہے، ملک میں ایسا جبر اور زیادتی ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔

انہوں نے کہا دعا ہے کہ نیا سال ہمارے لیے اچھا ثابت ہو، جو 2025 یا اس سے پچھلے سال ہوا وہ ملک کے لیے بھیانک ترین سال تھے۔

مزید پڑھیں

جن لوگوں نے شاہ محمود سے ملاقات کی وہ بھگوڑے ہیں اس ملاقات کی کوئی اہمیت نہیں، حامد خان

حامد خان نے کہا ہمیں خوشی ہے کہ ہماری دونوں بار ایسوسی ایشنز نے لیڈنگ رول پلے کیا، دوسرا گروپ اب حکومتی گروپ بن کر رہ گیا ہے اور یہ ترامیم لانے میں دوسرے گروپ کے لیڈران کا ہاتھ ہے۔ عدلیہ کے خلاف اقدامات پر مزاحمت کرنے کا بوجھ صرف پروفیشنل گروپ پر ہے، آنے والے منتخب صدور اس معاملے کو لے کر آگے چلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کوئی آئین و قانون نہیں رہ گیا، جب بھی آئینی سیٹ اَپ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہمارے وکلا ہی آگے آئے، امید ہے کہ وکلا اسٹبلیشمنٹ کی بی ٹیم نہیں بنیں گے۔

پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا صدر ہماری چوائس تھی لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اس طرح پیسے کا استعمال کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے ذریعے نے کہا

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن