Express News:
2026-06-02@22:07:49 GMT

بڑھتی طلاقیں، خواتین کی خودکشیاں اور کمزور قانون

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

کراچی کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایک فیصلہ سنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کا موجودہ قانون کمزور اور خودکشی پر اکسانے والوں کو سزا دینے سے قاصر ہے اور خاتون کی خودکشی کا، اس کا شوہر صرف اخلاقی طور ذمے دار ہے مگر اسے قانونی طور سزا نہیں دی جا سکتی۔

واضح رہے کہ ملک میں خودکشی جرم نہیں، البتہ اقدام خودکشی جرم ہے مگر اس پر بھی سزا شاذ و نادر ہی دی جاتی ہے۔ فاضل جج نے بھارتی قانون 306 اور 498 اے کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلے میں ایک خاتون جس نے شادی کے صرف سات ماہ بعد اپنے سسرالیوں کے رویے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔

جس پر عدالت نے خاتون پر گھریلو تشدد ثابت نہ ہونے پر اس کے شوہر اور دو دیوروں کو اس لیے بری کر دیا کہ خودکشی کمرے کے اندر پنکھے سے لٹک کر کی گئی تھی اور خودکشی کرنے والی خاتون نے اپنے خط میں خود پر گھریلو تشدد کا ذکر کیا تھا اور اس کے شوہر نے اپنی بیوی پر سسرال والوں کے مظالم روکنے میں ناکامی دکھائی تھی جس سے مجبور ہو کر خاتون نے خودکشی کرلی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ ناکافی اور اس میں سزا بہت کم ہے جس کی وجہ سے خواتین مظالم برداشت کرتی ہیں یا مجبوراً خودکشی کر لیتی ہیں جس میں کچھ بچ جاتی اور باقی جان دے دیتی ہیں اور قانون کی خامی کے باعث ملزمان کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

اس کیس میں پراسکیوٹر کا موقف تھا کہ مرحومہ کے شوہرکا رویہ غیر حفاظتی اور غفلت پر مبنی تھا مگر قانونی خامی کے باعث ملزموں کو سزا نہیں دی گئی اور تینوں بری ہو گئے۔

 مٹھی میں ایک دیہی 45 سالہ خاتون نے اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے نشئی شوہر کے خلاف احتجاج کیا کہ اس نے نشے کے لیے جہیز میں ملے مویشی فروخت کر دیے اور رقم نشے میں اڑا دی اور مزید رقم کے لیے بیوی پر تشدد شروع کر دیا جس پر خاتون نے خلع کے لیے عدالت میں درخواست دی اور احتجاج کیا کہ اس کا جہیز واپس کرایا جائے۔

ملک بھر اور خاص کر سندھ میں دیہی خواتین کی خود کشیوں اور احتجاج کی خبریں میڈیا میں آنا معمول ہے اور شہروں میں بھی طلاق اور خلع کے معاملات میں بہت تیزی آئی ہوئی ہے اورکراچی و لاہور کی عدالتوں میں خلع کے ہزاروں مقدمات زیر سماعت ہیں اور بعض خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں اس لیے بھی قتل ہو رہی ہیں کہ انھوں نے خلع کے لیے عدالت سے کیوں رجوع کیا۔ ایسے بھی قتل ہوئے ہیں کہ خلع کے بعد متعلقہ خاتون نے دوسری شادی کر لی جس پر مشتعل سابق شوہر نے اپنی سابقہ بیوی کو نہیں بخشا اور اسے قتل کر دیا۔

طلاق شوہر کا مذہبی اور خلع لینا،خاتون کا قانونی حق ہے مگر بعض حلقے عدالتی خلع کو بھی متنازع بنائے ہوئے ہیں کہ خلع لینے والی خاتون اب بھی اس کی بیوی ہے اور وہ شوہر کی طلاق کے بعد ہی دوسری شادی کر سکتی ہے۔

ملک بھر کے پس ماندہ اور دیہی علاقوں میں خواتین پر شوہروں اور گھریلو تشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس کی ایک وجہ بے روزگاری، مہنگائی اور نشہ اہم ہیں جب کہ اس دو طرفہ تشدد سے متوسط طبقے اور پوش علاقوں کی خواتین بھی محفوظ نہیں جنھیں مالی مشکلات کا سامنا تو نہیں مگر عدم برداشت اور زبان درازی کا عنصر بھی شامل ہے اور شوہروں سے معمولی جھگڑوں کے بعد گھر چھوڑ کر میکے چلے جانے اور کسی طرف سے پیش رفت نہ ہونے کے بعد خلع، طلاق اور خودکشیوں کو آسان حل سمجھ لیا گیا ہے۔

خواتین جھگڑ کر اپنے میکے تو چلی جاتی ہیں مگر انھیں اب میکے میں بھی وہ ماحول میسر نہیں جو انھیں شادی سے پہلے حاصل تھا۔ جہاں اب انھیں بھائی سے زیادہ بھابھیوں کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ ماں باپ تو اولاد کو برداشت کر لیتے ہیں مگر بچے ساتھ لے کر جانے والی خواتین بھی مہنگائی اور نفسا نفسی کے دور میں بوجھ تصور ہوتی ہیں اور وہاں بھی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔

اور شوہر بھی معمولی تنازع کو انا کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں اور کچھ بیوی بچوں کی غیر موجودگی کو اخراجات میں بچت سمجھ کر اپنا گھریلو سکون برباد کیے رکھتے ہیں اور اپنی بیوی بچوں کا بوجھ اپنے سسرالیوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں جو غلط ہے مگر غیر قانونی نہیں۔ شادی کے بعد بیوی بچوں کی ذمے داری شرعی طور پر شوہر کا فرض ہے جو اپنے فرض کو نہیں نبھاتے جس سے تنازعہ شدید اور مستقل علیحدگی کی وجہ بن جاتا ہے جس میں بیوی سے زیادہ شوہر ذمے دار ہوتا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شادی شدہ خواتین سسرالیوں کے مظالم برداشت کرتی رہتی ہیں اور شوہر سے شکایت پر شوہروں کی بے بسی، مجبوری، بیوی کی حمایت جھگڑے بڑھا دیتی ہے یا شوہر بھی بیوی کا جائز ساتھ دینے کے بجائے الٹا اپنے گھر والوں کی ناراضگی نہیں چاہتے اور پھر بیوی سسرال کے بعد شوہر کے مظالم اور تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ 

جس کے لیے قانون تو بنا دیے گئے مگر حکومتی حلقوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس طرح بیوی کی شکایت مزید تلخی بڑھا دیتی ہے اور خواتین کسی حد تک سسرال کے ساتھ شوہر کا ظلم برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کیونکہ انھیں اپنے بچوں کے مستقبل اور گھر بچانے کی بھی فکر ہوتی ہے مگر صرف دانشمند خواتین ہی ایسا سوچتی ہیں۔

بیویوں سے جھگڑوں اور گھریلو تنازعات پر شادی شدہ نوجوانوں میں بھی خودکشیوں اور تشدد کے معاملات اب تشویش ناک ہوگئے ہیں۔ اگر کہیں بیوی گھریلو تشدد اور شوہروں سے شکایات پر خودکشی کر رہی ہے تو وہاں بیوی کے رویوں کی وجہ سے شوہر بھی خودکشی کر رہے ہیں اور بیوی کی شوہر کے ساتھ نہ جانے کی ضد میں شوہر بھی مشتعل ہو کر اپنی بیوی اور اس کی حمایت کرنے والے سسرالیوں کو بھی قتل کرکے فرار ہو رہے ہیں۔

جس کی ذمے داری ضدی اور ہٹ دھرم بیویوں پر عائد ہوتی ہے جو شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر کے جھگڑا بڑھاتی ہیں اور اس کے میکے والے بھی اپنی بیٹی کو سمجھانے کے بجائے اس کے شوہر پر ہی الزامات لگا کر معاملہ بگاڑ دیتے ہیں اور بیوی کی حمایت کرکے شوہر کو ہی مطمئن کرتے ہیں۔

میاں بیوی کے جھگڑے شادی کے سالوں بعد اور بچوں کے بعد تو ہوتے ہی تھے اور دونوں یا ان کے بڑے مداخلت کرکے میاں بیوی میں صلح کرا دیتے تھے مگر اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ نئے شادی شدہ نوجوانوں میں بھی شادی کے بعد جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔

کورنگی کراسنگ میں اہلیہ ناراض ہو کر شادی کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد میکے چلی گئی جس کو منانے کے لیے شوہر نے فون کیا تو تلخی مزید بڑھ گئی اور مایوس ہو کر شوہر نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔

شوہر کو اس انتہائی اقدام پر مجبور کرنے والی بیوی اگر معمولی بات کو نہ بڑھاتی تو خود بھی جوانی میں بیوہ نہ ہوتی اور ناراضگی ختم کرکے اپنے شوہر کو بچا سکتی تھی۔ 

موجودہ مہنگائی و بے روزگاری کے شکار جوڑوں میں بھی برداشت ختم ہو رہی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی مجبوریاں نہیں سمجھتے اور اپنا گھر بگاڑ لیتے ہیں۔

شوہر کو حصول روزگار کے لیے جن حالات کا سامنا رہتا ہے یہ بیوی نہیں سمجھتی اور مالی تنگی کی شکار بیوی کی مشکلات شوہر نہیں سمجھتا اور اس کا غصہ بیوی پر اور بیوی کا بچوں یا جوائنٹ فیملی کے افراد پر نکلتا ہے جس پر شوہر بیوی کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور شوہروں کے مظالم اور تشدد کا شکار خواتین انتہائی مجبور ہو کر تھانوں یا میڈیا والوں کے پاس جا کر شکایات یا احتجاج کرتی ہیں جس سے جھگڑا مزید بڑھ جاتا ہے اور نوبت علیحدگی تک پہنچ جاتی ہے۔

بیویاں گھریلو تشدد تو سہہ لیتی ہیں اور انھیں شوہر کی حمایت ملتی ہے نہ تحفظ۔ تھانوں میں شکایات پر اگر خواتین کو تشدد سے تحفظ دینے والا قانون حرکت میں تو آتا ہے مگر فیملی کورٹس میں میاں بیوی کے جھگڑے نمٹانے یا صلح کرانے کے بجائے اپنے مالی مفاد کے لیے بڑھائے جاتے ہیں۔

خواتین کے تحفظ کا قانون اتنا کمزور ہے کہ جس سے خواتین کو فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے اس لیے خواتین عدم برداشت پر مجبور ہو کر خودکشی کر لیتی ہیں یا اپنا گھر بگاڑ لیتی یا صبر کر لیتی ہیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گھریلو تشدد لیتے ہیں شوہر بھی کی حمایت کے بجائے خاتون نے اور شوہر مجبور ہو کے مظالم لیتی ہیں تشدد کا شوہر نے ہیں اور بیوی کی میں بھی پر شوہر کے شوہر شوہر کے شادی کے شوہر کو اور اس کے بعد ہے مگر کے لیے خلع کے ہے اور

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی