یمن میں کسی بھی فریق کے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں،پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دفتر خارجہ نے یمن میں کشیدگی میں دوبارہ اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یمن میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے یک طرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو صورت حال کو مزید کشیدہ کریںامن کوششوں کو نقصان پہنچائیں اور یمن کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنیں
جبکہ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا گیا۔ترجمان دفترخارجہ طاہراندرابی کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان نے یمن میں تشدد کے دوبارہ بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور پاکستان یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ملک میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا حامی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے اور پاکستان یمن مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی عمل کی مضبوط حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایک جامع اور پائیدار حل کی جانب پیش قدمی کریں گی، جو علاقائی استحکام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان کا اظہار کرتا ہے کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔