روس: پیوٹن نے 2026 میں یوکرین میں بفرزون کی توسیع کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
روسی صدر ولادی میر پوتین نے یوکرائن کے علاقوں سومی اور خارکیف میں، جو روسی سرحد کے قریب واقع ہیں اس جگہ کو وسیع کرنے کا حکم دیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسیوں نے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ویلری گیراسیموف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی افواج شمال مشرقی یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔ انہوں نے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی “بفر زون” کو وسیع کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق آج بدھ کے روز گیراسیموف کے حوالے سے مزید بتایا کہ صدر ولادی میر پوتین نے یوکرائن کے علاقوں سومی اور خارکیف میں، جو روسی سرحد کے قریب واقع ہیں اس جگہ کو وسیع کرنے کا حکم دیا ہے جسے ماسکو “بفر زون” قرار دیتا ہے۔ یہ توسیع آئندہ سال کے دوران کی جائے گی۔
ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ چیف آف اسٹاف نے “نارتھ” فوجی گروپ کے دستوں کا معائنہ کیا۔ یہ فورس، جو 2024 کے اوائل میں تشکیل دی گئی تھی، شمال مشرقی یوکرائن میں سرحد پر بفر زون قائم کرنے اور مزید پیش قدمی کے حصول کے لیے وہاں موجود یوکرائنی افواج کو پیچھے دھکیلنے پر کام کر رہی ہے۔
گیراسیموف کے یہ بیانات روس کے اس عہد کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں اس نے پوتین کی رہائش گاہ پر حملے کی مبینہ کوشش کا جواب دینے کا کہا ہے۔ روس نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا تھا، جس کی کیو نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو اٹھانے کا مقصد جنگ کے آغاز کو تقریباً چار سال مکمل ہونے پر امن مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
یوکرائنی صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ سومی اور خارکیف کے بارے میں ماسکو کے منصوبے “جنون” پر مبنی ہیں اور انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یوکرائن ان دونوں علاقوں کا دفاع کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر