بھارت، ایک اور لڑکی کو چلتی گاڑی میں بے آبرو کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-08-3
دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں دہلی سے متصل فرید آباد میں ایک خاتون کو لفٹ دینے کے بہانے کار میں بٹھا کر 2 نوجوانوں نے چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی کی۔ درندوں نے تقریباً کئی گھنٹے تک خاتون کو یرغمال بنائے رکھا، اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور بعد میں اسے نیم مردہ حالت میں چلتی گاڑی سے پھینک کر فرار ہو گئے۔پولیس ترجمان یش پال سنگھ کے مطابق، متاثرہ خاتون کی بہن کی شکایت کے مطابق واقعے والی رات تقریباً ساڑھے8بجے خاتون کا گھر پر اپنی ماں سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا۔ غصے میں وہ یہ کہہ کر گھر سے نکلی کہ وہ اپنی سہیلی کے گھر جا رہی ہے اور تین گھنٹے میں واپس آ جائے گی۔رات تقریباً12 بجے خاتون راستے میں کسی گاڑی کا انتظار کر رہی تھی۔ اسی دوران ایک ایکو وین وہاں رکی، جس میں پہلے سے 2 نوجوان سوار تھے۔ خاتون نے لفٹ مانگی اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ الزام ہے کہ لفٹ دینے کے بعد ملزمان نے گاڑی کو فرید آباد،گڑگاؤں روڈ کی طرف موڑ لیا۔شکایت کے مطابق فرید آبادگڑگاؤں سڑک پر واقع ہنومان مندر سے کچھ آگے جا کر ایک ملزم نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی، جبکہ دوسرے نے خاتون کو دبوچ لیا۔ جب خاتون نے مزاحمت کی تو ملزمان نے اسے بری طرح پیٹا۔ اس کے بعد دونوں نے باری باری چلتی گاڑی میں اس کے ساتھ زیادتی کی۔ وہ کئی گھنٹے تک خاتون کو سڑکوں پر گھماتے رہے۔درندگی کے بعد صبح تقریباً 3 بجے ملزمان نے خاتون کو ایس جی ایم نگر کے نزدیک چلتی وین سے نیچے پھینک دیا اور فرار ہو گئے۔ سڑک پر گرنے سے خاتون کے سر اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں، جس کے باعث ڈاکٹروں کو چہرے پر ٹانکے لگانے پڑے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی شناخت کے لیے روٹ کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔خاتون تین بچوں کی ماں بتائی جاتی ہے۔واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل بھارتی ریاست راجستھان کے شہر اودے پور میں پولیس نے ایک نجی آئی ٹی کمپنی کے سی ای او، خاتون ایگزیکٹو ہیڈ اور اس کے شوہر کو خاتون ملازمہ کے مبینہ گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ملزمان نے پارٹی کے بعد گھر چھوڑنے کے بہانے گاڑی میں خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چلتی گاڑی خاتون کو گاڑی میں کے بعد
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔