کانگریس لیڈر نے کہا کہ جسطرح سے ملک کی آزادی کے وقت آزادی کے متوالے کو اشعار اور نظموں کو نعروں کی شکل دیکر جوش بھرنے کا کام کرتے تھے، اسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس اقلیتی محکمہ کے میڈیا انچارج اور تلنگانہ انچارج سید عدنان اشرف نے حسن پور اسمبلی کے قصبہ ڈھکا میں ایک آل انڈیا مشاعرہ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر عدنان اشرف نے کہا کہ جو لوگ مشاعروں کا انعقاد کرتے ہیں، وہ لوگ سیکولر مزاج کے ہوتے ہیں اور سماج میں ہندو-مسلم اتحاد کے پیروکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سے ملک کی آزادی کے وقت آزادی کے متوالے کو اشعار اور نظموں کو نعروں کی شکل دے کر جوش بھرنے کا کام کرتے تھے، اسے کوئی فراموش نہیں کر سکتا، اُردو کے جوشیلے نغموں کے ذریعہ مجاہدین آزادی نے کئی بڑی لڑائیاں لڑیں۔

تقریب میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سید عدنان اشرف نے کہا کہ آج اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاسی میدان کی طرف بڑھیں، امت مسلمہ کو سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے اور اپنے بچوں کو سیاست میں بھیجنا چاہیئے۔ اس سے وہ اپنی آواز بلند کر پائیں گے اور قوم و ملت کا سہارا بن سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے نفرت کا ماحول ختم کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ کانگریس لیڈر نے لوگوں سے اپیل کی کہ بچوں کی تعلیم پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ورنہ جو لوگ "عبدل کے پنکچر" لگانے کی بات کرتے ہیں، وہ سچ ہوتی چلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر آپ ہر اعتبار سے اپنی زندگی میں پچھڑ جائیں گے۔ 

اس مشاعرہ کے کنوینر مشہور صحافی وشال چودھری ایڈووکیٹ تھے، جنہوں نے اُردو زبان کے زوال پر اپنے شدید افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشاعرہ میں شریک لوگوں سے کہا کہ آج جس طرح اردو زبان ختم ہوتی جا رہی ہے، وہ بے حد تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے اُردو کے تئیں اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُردو ہماری اپنی زبان ہے، جن گھروں میں پہلے اُردو ترقی پاتی رہی، ان کنبوں میں نہ اب اردو پڑھی جاتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے بچوں کو اُردو پڑھاتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ لوگ 2 روپے کا اُردو اخبار بھی نہیں خریدتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ا زادی کے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی