باجوڑ میں منشیات فروشوں سے رابطے کے الزام میں 6 پولیس اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ڈی پی او باجوڑ نے بتایا کہ معطل پولیس اہلکاروں کی طویل عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کیساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ باجوڑ میں منشیات فروشوں سے رابطے کے الزام میں 6 پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔ ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق کے مطابق معطل پولیس اہلکار منشیات فروشوں سے پیسے وصول کرنے میں ملوث پائے گئے۔ ڈی پی او باجوڑ نے بتایا کہ معطل پولیس اہلکاروں کی طویل عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کیساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: منشیات فروشوں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔