امریکی اقدامات کے جواب میں افریقہ کے 2 ممالک کی جانب سے جوابی پابندیوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
مالی اور برکینا فاسو نے امریکا کی جانب سے ان کے شہریوں پر لگائی گئی سفری پابندیوں کے جواب میں امریکی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت امریکا سے آنے والے افراد کو وہی پابندیاں اور شرائط درپیش ہوں گی جو امریکی حکومت نے ان کے شہریوں پر عائد کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یکطرفہ امریکی پابندیوں نے اقوام متحدہ کی ماہر کو مالیاتی نظام سے باہر دھکیل دیا
مالی اور برکینا فاسو کی حکومتوں نے منگل کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے یہ اقدام ’مساوات کے اصول کے تحت‘ اٹھایا ہے۔ مالی کے وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ وہ اس فیصلے پر افسوس کرتے ہیں کہ یہ بغیر کسی پیشگی مشاورت کے لیا گیا اور اس کے جواز کے طور پر دی گئی سیکیورٹی وجوہات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
Mali and Burkina Faso announce travel restrictions on American nationals in a tit-for-tat move after US President Trump expanded a nationality-based travel ban to nearly 40 countries, including both African stateshttps://t.
— TRT World (@trtworld) December 31, 2025
یہ پابندیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 14 دسمبر 2025 کو برکینا فاسو، مالی، نائیجر، ساؤتھ سوڈان اور شام کے شہریوں پر عائد کی گئی سفری پابندیوں کے ردعمل میں ہیں۔ ان کے علاوہ لاؤس اور سیرالیون کے لیے نئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، اور فلسطینی اتھارٹی کے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد پر بھی محدود پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اب امریکی پابندیوں کی فہرست میں 19 ممالک شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی پابندیاں، بلغاریہ نے واحد آئل ریفائنری بچانے کے لیے کوششوں شروع کر دیں
نیو یارک ٹائمز کے مطابق نائیجر، مالی اور برکینا فاسو میں حالیہ فوجی بغاوتوں کے بعد فوجی حکومتیں اقتدار میں ہیں، اور ان کے رہنما زیادہ تر امریکا سے تعلقات کم کر کے روس، چین، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ساحل خطہ (نائیجر، برکینا فاسو اور مالی) دنیا میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات کا نصف حصہ فراہم کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں قانونی مستقل رہائشی، موجودہ ویزہ ہولڈرز، سفارتکاروں یا بڑے کھیلوں کی تقریبات کے لیے سفر کرنے والے کھلاڑیوں پر لاگو نہیں ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افریقہ امریکا برکینافاسو سفری پابندی مالی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افریقہ امریکا برکینافاسو سفری پابندی مالی برکینا فاسو عائد کی کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی