مالی دباؤ اور دل کی بیماریوں میں گہرا تعلق ہے، ماہرین کا تشویشناک انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طبی ماہرین اور سائنسی تحقیق نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ مالی پریشانیاں محض ذہنی دباؤ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ دل کی صحت پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب انسان مسلسل مالی دباؤ میں رہتا ہے تو جسم میں اسٹریس ہارمونز جیسے کورٹی سول کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو بلڈ پریشر میں اضافے اور دل کی شریانوں پر دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
طویل عرصے تک مالی دباؤ کے شکار افراد میں ہائی بلڈ پریشر مستقل مسئلہ بن سکتا ہے، جو دل کے دورے اور فالج کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی پریشانی کے شکار افراد اکثر نیند کی کمی، غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں، جو دل کی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ عوامل ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ڈپریشن اور اینگزائٹی بھی دل کی بیماریوں کے امکانات کو بڑھا دیتی ہیں، خاص طور پر جب یہ مسائل مالی دباؤ کے ساتھ جڑے ہوں۔ اسی لیے ماہرین صحت پر زور دیتے ہیں کہ ذہنی سکون اور مالی منصوبہ بندی کو دل کی صحت کے تحفظ کا اہم حصہ سمجھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مالی دباؤ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔