جی میل میں ایک بہترین نئے فیچر کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹیکنالوجی کے عالمی ادارے گوگل نے اپنے صارفین کے لیے ایک اہم اپ ڈیٹ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب جی میل استعمال کرنے والے صارفین اپنے پرائمری ‘@جی میل ڈاٹ کام’ ای میل ایڈریس کو موجودہ گوگل اکاؤنٹ ایڈریس میں تبدیل کر سکیں گے۔
اس نئے فیچر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اکاؤنٹ ایڈریس بدلنے کے باوجود تمام محفوظ کردہ ڈیٹا برقرار رہے گا، یعنی تصاویر، پیغامات اور ای میلز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ گوگل نے یہ فیچر بتدریج تمام صارفین کے لیے متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔
اس اپ ڈیٹ کے تحت صارفین نہ صرف نئے جی میل ایڈریس پر سوئچ کر سکیں گے بلکہ پرانے یا نئے ای میل ایڈریس کے ذریعے گوگل کی دیگر خدمات جیسے جی میل، میپس، یوٹیوب اور ڈرائیو میں بھی سائن ان کر سکتے ہیں۔
گوگل کے مطابق ایک بار نیا جی میل ایڈریس بنانے کے بعد صارف اگلے بارہ مہینوں تک دوسرا نیا ایڈریس نہیں بنا سکیں گے، تاہم پرانا ایڈریس کسی بھی وقت دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈیٹا کی حفاظت کی مکمل ضمانت کے باوجود گوگل نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تبدیلی کے عمل سے قبل اپنی معلومات کا بیک اپ بنا لیں، کیونکہ اس دوران بعض ایپ کی سیٹنگز ری سیٹ ہو سکتی ہیں۔ مزید برآں، صارفین یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ فیچر ان کے اکاؤنٹ میں فعال ہے یا نہیں، جس کے لیے وہ اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جا کر ‘ذاتی معلومات’ کے زمرے میں اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
یہ اپ ڈیٹ گوگل صارفین کے لیے ڈیٹا کی حفاظت اور اکاؤنٹ مینجمنٹ کو مزید آسان بنانے کی ایک اہم کوشش ہے، جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میل ایڈریس صارفین کے جی میل کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔