پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان فہرستوں کا تبادلہ جوہری تنصیبات پر حملوں کی ممانعت معاہدے کے تحت ہوا ہے۔
پاکستان کی جوہری تنصیبات کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کر دی گئی ہے۔
دونوں رہنما کے درمیان مصافحہ خالدہ ضیاء کی آخری رسومات کے موقع پرڈھاکا میں ہوا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے بھارت کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کر دی۔
جوہری تنصیبات سے متعلق معاہدے پر پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کو دستخط کیے تھے۔
سفارتی ذرائع نے کہا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فہرستوں کا تبادلہ جوہری تنصیبات کے درمیان
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :