صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر پابندیاں، بلوچستان میں آٹے کا شدید بحران، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
بلوچستان بھر میں ایک بار پھر آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں آٹے کی فی کلو قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 20 کلو والے آٹے کی تھیلی کی قیمت میں 30 سے 50 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟
کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کی بوری 2400 روپے سے بڑھ کر 2450 سے 2500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ 50 کلو والے تھیلے کی قیمت 6,000 سے 6,500 روپے اور 100 کلو والے تھیلے کی قیمت 12,000 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث عوام پریشان ہیں اور فلور مل مالکان کا بھی سر درد بڑھ گیا ہے۔
گندم اور آٹے کی ترسیل محدودمرکزی چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن بدرالدین نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گندم اور آٹے کی ترسیل کے نظام کو عملی طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
خیبر پختونخواہ کی یومیہ ضرورت تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار بوریاں ہے، جبکہ پنجاب کی جانب سے صرف 20 ہزار بوریاں روزانہ پرمٹ کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس بڑے فرق کے باعث خیبر پختونخواہ میں آٹے کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور پشاور میں 100 کلو آٹے کی قیمت بڑھ کر 12,600 روپے تک جا پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت نے گندم کوٹہ کیس میں بڑا حکم جاری کردیا
پنجاب میں سرکاری سطح پر 100 کلو آٹے کی قیمت 11,000 روپے مقرر کی گئی ہے، جس سے صوبوں کے درمیان قیمتوں کا واضح فرق پیدا ہو گیا ہے۔
سندھ کی صورتحالسندھ حکومت اپنی گندم کے ذخائر سے آٹا فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں فلور ملز کو سرکاری گندم تقریباً 9,000 روپے فی 100 کلو کے حساب سے دی جا رہی ہے۔ تاہم اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان ہے، جو اپنی سالانہ گندم کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک دوسرے صوبوں پر انحصار کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 18 لاکھ ٹن ہے، جبکہ صوبے میں مقامی پیداوار اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ جب گندم کا سیزن آتا ہے تو بلوچستان کچھ حد تک اپنی پیداوار سے آٹا تیار کرتا ہے، مگر باقی عرصے میں اسے پنجاب اور سندھ سے گندم اور آٹا منگوانا پڑتا ہے۔
پابندیوں کے اثراتصوبوں کے درمیان نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث بلوچستان میں آٹے کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ نتیجتاً بلوچستان میں آٹے کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں 100 کلو آٹے کی قیمت 18,000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ صرف گزشتہ 10 دنوں میں آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کوئٹہ کے دکانداروں کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2,500 روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ فلور ملز سے بھی آٹا مہنگے داموں فراہم کیا جا رہا ہے۔
آئینی تقاضے اور ماہرین کی رائےفلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ پورے پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کی ذمہ داری پنجاب پر ہے، مگر عملی طور پر اپنی صوبائی ضرورت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں فیڈ ملز کو گندم کے استعمال سے مزید 30 روز کے لیے روک دیا گیا
ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 151 صوبوں کے درمیان اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دیتا ہے، مگر عملی طور پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جو آئینی تقاضوں کے منافی ہیں۔
سیاسی اثراتسیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندیاں محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے تحت بھی لگائی جا رہی ہیں، تاکہ بعض صوبوں میں عوامی دباؤ پیدا کیا جا سکے۔ اس صورتحال کی لپیٹ میں بلوچستان بھی آ گیا ہے، جہاں پہلے ہی غربت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وفاق اگر بروقت مداخلت کرے اور صوبوں کے درمیان گندم کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنائے تو بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، موجودہ حالات برقرار رہنے کی صورت میں بلوچستان سمیت دیگر متاثرہ صوبوں میں آٹے کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا بدرالدین بلوچستان پنجاب خیبرپختونخوا سندھ فلور ملز ایسوسی ایشن گندم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ٹا بدرالدین بلوچستان خیبرپختونخوا فلور ملز ایسوسی ایشن صوبوں کے درمیان خیبر پختونخواہ آٹے کی قیمت میں آٹے کی کلو آٹے کی کی ترسیل فلور ملز گندم اور کے مطابق گندم کی 000 روپے کے لیے جا رہی رہی ہے آٹے کا گیا ہے
پڑھیں:
بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
سٹی 42: بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ میں آپریشنز کیے گئے ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد مارے گئے،
ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ہلاک دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی دہشتگردوں سے برآمد کر لی گئیں۔علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری کییے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آئی ایس پی آر کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی،ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔